Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
342 - 414
درخت سرفراز ہوا ہے۔
 (تفسیر صاوی، ج۴، ص ۱۴۰۵، پ۱۸،نور:۳۵)
اللہ تعالیٰ نے اس مبارک درخت کے بارے میں ارشاد فرمایا :
وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَیۡنَآءَ تَنۡۢبُتُ بِالدُّہۡنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیۡنَ ﴿20﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور وہ پیڑ پیدا کیا کہ طورِ سینا سے نکلتا ہے لے کر اُگتا ہے تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن۔(پ18،المومنون:20)

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ ۙ
ترجمہ کنزالایمان:۔روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے جو نہ پورب کا نہ پچھم کا۔(پ18،النور:35)

درسِ ہدایت:۔زیتون ایک بڑی برکتوں والا درخت ہے یوں تو ہر جگہ یہ درخت بغیر کسی محنت اور پرورش کے ہوتا ہے لیکن خاص طور پر ملک شام اور عام طور پر ملک عرب میں بکثرت پایا جاتا ہے اور ان مقامات پر اس کا تیل بھی لوگ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ مکہ مکرمہ میں گوشت اور مچھلی بھی اسی تیل میں تل کر لوگ کھاتے ہیں۔ اس کے تیل کو عربی میں ''زیت'' کہتے ہیں اور یہ تیل بیچنے والا ''زیات'' کہلاتا ہے۔ اگر مل سکے تو مسلمانوں کو چاہے کہ تبرکاً اس کا استعمال کریں کیونکہ قرآن میں اس کو مبارک درخت فرمایا گیا ہے اور ستر انبیاء کرام نے اس میں برکت کے لئے دعائیں فرمائی ہیں۔ لہٰذا اس کے بابرکت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور جب بابرکت چیز ہے تو اس میں یقینا فوائد و منافع بھی بہت زیادہ ہوں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
Flag Counter