| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
لیکن کم سے کم ہر انسان کے لئے اس میں عبرتوں اور نصیحتوں کے بہت سے سامان ہیں تاکہ انسان یہ سوچتا رہے اور کبھی اس سے غافل نہ رہے کہ میں اصل میں کیا تھا؟ اور خداوند قدوس نے مجھے کیا سے کیا بنا دیا؟ یہ غور کر کے خداوند تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ پر ایمان لائے اور کبھی فخر و تکبر اور خودنمائی کو اپنے قریب نہ آنے دے اور یہ سوچ کر کہ میں نطفہ کی ایک بوند سے پیدا ہوا ہوں ہمیشہ عاجزی و فروتنی کے ساتھ منکسر المزاج بن کر زندگی بسر کرے اور یہ سوچ کر قیامت پر بھی ایمان لائے کہ جس خدا نے مجھے ایک بوند نطفہ پانی سے انسان بنا دیا وہ بلاشبہ اس پر بھی قادر ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ مجھے زندہ کر کے میرے اعمال نیک و بد کا حساب لے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۳۹) مبارک درخت
قرآن مجید میں مبارک درخت سے مراد ''زیتون'' کا درخت ہے۔ طوفانِ نوح علیہ السلام کے بعد یہ سب سے پہلا درخت ہے جو زمین پر اُگا اور سب سے پہلے جہاں اُگا وہ کوہِ طور ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا سے ہم کلام ہوئے۔ زیتون کے درخت کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض عالموں نے فرمایا ہے کہ تین ہزار برس تک یہ درخت باقی رہتا ہے۔
(تفسیر صاوی، ج۴، ص ۱۳۶۰، پ۱۸، المومنون:۲۰)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ زیتون میں بہت سے فوائد اور منفعتیں ہیں۔ اس کے تیل سے چراغ جلایا جاتا ہے اور یہ بطور سالن کے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی سر اور بدن پر مالش بھی کرتے ہیں اور یہ چمڑے کی دباغت میں بھی کام آتا ہے اور اس سے آگ بھی جلاتے ہیں اور اس کا کوئی جزو بھی بیکار نہیں۔ یہاں تک کہ اس کی راکھ سے ریشم دھو کر صاف کیا جاتا ہے اور یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے مکانوں اور مقدس زمینوں میں اُگتا ہے اور اس کے لئے ستر انبیاء کرام نے برکت کی دعا مانگی ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس دعاؤں سے بھی یہ