Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
337 - 414
قوموں کی بستیاں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک و برباد کردی گئیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
         			(تفسیر صاوی،ج۴، ص ۱۲۹۲،پ۱۷، الانبیاء:۱۱)
درسِ ہدایت:۔حضرات انبیاء علیہم السلام کی تکذیب و توہین اور ان کی ایذاء رسانی و قتل یہ سب بڑے بڑے وہ جرم عظیم ہیں کہ خداوند قدوس کا عذاب ان لوگوں پر ضرور ہی آتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید گواہ ہے کہ بہت سی بستیاں انہیں جرموں میں تباہ و برباد کردی گئیں۔
                (۳۶)حضرت ذوالکفل علیہ السلام
قرآن مجید میں حضرت ذوالکفل علیہ السلام کا ذکر صرف دو سورتوں یعنی سورہ ''انبیاء''اور سورہ  ''ص ۤ '' میں کیا گیا ہے اور ان دونوں سورتوں میں صرف آپ کا نام مذکور ہے۔ نام کے علاوہ آپ کے حالات کا مجمل یا مفصل کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ سورہ  انبیاء میں یہ ہے :
وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِدْرِیۡسَ وَ ذَا الْکِفْلِ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیۡنَ﴿85﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور اسماعیل اور ادریس ، ذوالکفل کو (یاد کرو)وہ سب صبر والے تھے۔ (پ17،الانبیاء:85)

اور سورہ ''ص ۤ ''میں اس طرح ارشاد ہوا کہ:
وَ اذْکُرْ اِسْمٰعِیۡلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْکِفْلِ ؕ وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ ﴿ؕ48﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور یاد کرو اسمٰعیل اور یسع اور ذوالکفل کو اور سب اچھے ہیں۔(پ23،صۤ:48)

حضرت ذوالکفل علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید نے نام کے سوا کچھ نہیں بیان کیا ہے اسی طرح حدیثوں میں بھی آپ کا کوئی تذکرہ منقول نہیں ہے۔ لہٰذا قرآن و حدیث کی روشنی میں اس سے زیادہ نہیں کہا جا سکتا کہ ذوالکفل علیہ السلام خدا کے برگزیدہ نبی اور پیغمبر تھے جو کسی قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔

البتہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت ذوالکفل علیہ السلام حضرت ایوب علیہ السلام کے فرزند ہیں اور انہوں نے خالصاً لوجہ اللہ کسی کی ضمانت کرلی تھی۔
Flag Counter