Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
338 - 414
جس کی وجہ سے ان کو کئی برس قید کی تکلیف برداشت کرنی پڑی۔
 (موضح القرآن)
اور بعض مفسرین نے تحریر فرمایا کہ حضرت ذوالکفل علیہ السلام درحقیقت حضرت حزقیل علیہ السلام کا لقب ہے۔

اور زمانہ حال کے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ذوالکفل ''گوتم بدھ'' کا لقب ہے اس لئے کہ اس کے دارالسلطنت کا نام ''کپل وستو'' تھا جس کامعرب ''کفل ''ہے اور عربی میں ''ذو'' ، ''صاحب'' اور ''مالک''کے معنی میں بولا جاتا ہے اس لئے یہاں بھی ''کپل وستو'' کے مالک اور بادشاہ کو ''ذوالکفل'' کہا گیا اور ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ''گوتم بدھ'' کی اصل تعلیم توحید اور حقیقی اسلام ہی کی تھی مگر بعد میں یہ دین دوسرے ادیان و ملل کی طرح مسخ و محرف ہوگیا۔ مگر واضح رہے کہ زمانہ حال کے چند لوگوں کی یہ رائے کہ ''ذوالکفل'' گوتم بدھ کا لقب ہے میرے نزدیک یہ محض ایک خیالی تُک بندی ہے۔ تاریخی اور تحقیقی حیثیت سے اس رائے کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ذوالکفل علیہ السلام انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کے ان حالات و واقعات کے سوا جن کی تفصیلات قرآن مجید میں مختلف انبیاء بنی اسرائیل کے ذکر میں آتی رہی ہیں، حضرت ذوالکفل علیہ السلام کے زمانہ میں کوئی خاص واقعہ ایسا درپیش نہیں ہوا جو عام تبلیغ و ہدایت سے زیادہ اپنے اندر عبرت وموعظت کا پہلو رکھتا ہو۔ اس لئے قرآن مجید نے فقط ان کے نام ہی کے ذکر پر اکتفا کیا اور حالات و واقعات کا ذکر نہیں فرمایا فقط۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
            (۳۷)نہریں اُٹھالی جائیں گی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نہروں کو جنت سے جاری فرمایا ہے۔ (۱) جیحون (۲)یحون (۳)دجلہ(۴)فرات(۵)نیل۔
Flag Counter