Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
336 - 414
سب عورتوں کو گرفتار کر کے لونڈی بنالیا اور شہر کو تاخت و تاراج کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ جب شہر میں قتل عام شروع ہوا تو گاؤں والے بھاگنے لگے اس وقت فرشتوں نے بطور مذاق کے کہا کہ اے گاؤں والو! مت بھاگو اور اپنے گھروں میں اپنے مال و دولت کو لے کر آرام و حسین زندگی بسر کرو۔ کہاں بھاگ رہے ہو؟ ٹھہرو! یہ انبیاء علیہم السلام کے خون ناحق کا بدلہ ہے جو تمہیں مل رہا ہے، آسمان سے ملائکہ کی یہ آواز پورے گاؤں میں آتی رہی اور ''بخت نصر''کے لشکروں کی تلواریں ان کے سر اُڑاتی رہیں۔ جب گاؤں والوں نے یہ منظر دیکھا تو اپنے گناہوں اور جرموں کا اقرار کرنے لگے مگر ان کی آہ و زاری اور گریہ و بے قراری نے ان کو کوئی نفع نہیں دیا۔ گاؤں میں ہر طرف خون کی ندیاں بہہ گئیں اور سارا گاؤں تہس نہس ہو گیا قرآن مجید نے ان لوگوں کی ہلاکت و بربادی کی داستان کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے:۔
وَکَمْ قَصَمْنَا مِنۡ قَرْیَۃٍ کَانَتْ ظَالِمَۃً وَّ اَنۡشَاۡنَا بَعْدَہَا قَوْمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿11﴾فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا ہُمۡ مِّنْہَا یَرْکُضُوۡنَ ﴿ؕ12﴾لَاتَرْکُضُوۡا وَارْجِعُوۡۤا اِلٰی مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیۡہِ وَ مَسٰکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْـَٔلُوۡنَ ﴿13﴾قَالُوۡایٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّاکُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿14﴾فَمَا زَالَتۡ تِّلْکَ دَعْوٰىہُمْ حَتّٰی جَعَلْنٰہُمْ حَصِیۡدًا خَامِدِیۡنَ ﴿15﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کردیں کہ وہ ستمگار تھیں اور ان کے بعد اور قوم پیدا کی تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ اُن آسائشوں کی طرف جو تم کو دی گئی تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے تو وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کردیا کاٹے ہوئے بجھے ہوئے۔(پ17،الانبیاء:11۔15)

اور بعض مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں گاؤں سے مراد گزشتہ ہلاک شدہ امتوں کے گاؤں ہیں۔ یعنی حضرت نوح و حضرت لوط و حضرت صالح و حضرت شعیب علیہم السلام کی
Flag Counter