| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
وَ اَوْفُوۡا بِعَہۡدِ اللہِ اِذَا عٰہَدۡتُّمْ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعْدَ تَوْکِیۡدِہَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللہَ عَلَیۡکُمْ کَفِیۡلًا ؕ اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿91﴾وَلَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتْ غَزْلَہَا مِنۡۢ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھواور قسمیں مضبوط کر کے نہ توڑو اور تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو بیشک اللہ تمہارے کام جانتا ہے اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کر کے توڑ دیا۔(پ14،النحل:91۔92) درسِ ہدایت:۔ہر قسم کی بدعہدی اور عہد شکنی ممنوع اور شریعت میں گناہ ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بلا ضرورت اس کو توڑنا بھی جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اَوْفُوا بِالْعُفُوْ یعنی اپنے عہدوں اور معاہدوں کو پورا کرو اور فرمایا کہ
وَاحْفَظُوْا اَیْمَانَکُمْ
یعنی اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ ہاں البتہ اگر کسی خلاف شرع بات کی قسم کھالی ہو تو ہرگز ہرگز اس قسم پر اڑے نہیں رہنا چاہے بلکہ لازم ہے کہ اس قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۳۵)حصور گاؤں کی بربادی
''حصور''یمن کا ایک گاؤں تھا اس گاؤں والوں کی ہدایت کے لئے حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک نبی کو بھیجا جن کا نام موسیٰ بن میشا تھا جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے پرپوتے تھے۔ گاؤں والوں نے آپ کو جھٹلایا اور پھر آپ کو قتل کردیا اس ناجائز حرکت پر خدا کا قہر و غضب اور اس کا عذاب گاؤں والوں پر اُتر پڑا۔ گاؤں والے طرح طرح کی بلاؤں میں گرفتار ہو گئے یہاں تک کہ ''بخت نصر''کافر و ظالم بادشاہ اس گاؤں پر مسلط ہو گیا۔ اور اس نے نہایت ہی بے دردی کے ساتھ پورے گاؤں کے تمام مردوں کو قتل کردیا اور