Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
334 - 414
		(تفسیر روح البیان،ج۵،ص ۵۴۔۵۵ (ملخصاً)،پ۱۴، النحل:۰ ۷)
درسِ ہدایت:۔زندگی اور موت اور کم یا زیادہ عمر یہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ و اختیار میں ہے وہ جس کو چاہے کم عمر عطا فرمائے جس کو چاہے طویل عمر بخشے۔ کسی انسان کو ہرگزہرگز اس میں کوئی دخل نہیں ہے انسان کو چاہے کہ بہرحال خداوند قدوس کی مرضی پر صابر و شاکر رہے۔ ہاں البتہ یہ دعا مانگتا رہے کہ اللہ تعالیٰ میری زندگی کو نیکیوں میں گزارے اور ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھے کیونکہ تھوڑی سی عمر ملے اور نیکیوں میں گزرے تو اس سے بڑا کوئی انعام نہیں اور عمر طویل پائے مگر حسنات اور نیکیوں میں نہ گزرے تو وہ لمبی عمر بہت بڑا خسارہ اور وبال ہے اور اس کا ہر وقت دھیان رکھے کہ کسی بوڑھے شخص کی بے ادبی نہ ہونے پائے بلکہ ہمیشہ بوڑھوں کا اعزاز و احترام پیش نظر رہے، کیونکہ

     ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے دربار رسالت میں فقر و فاقہ کی شکایت کی، تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَعَلَّکَ مَشَیْتَ اَمَامَ شیْخ
یعنی غالباً تم کسی بوڑھے آدمی کے آگے آگے چلے ہو گے۔ یہ اسی کی نحوست ہے۔
      				(تفسیر روح البیان، ج۵، ص ۵۶،پ۱۴، النحل:۷۰)
                   (۳۴)بے وقوف بڑھیا
مکہ مکرمہ میں ایک بڑھیاریطہ بنت سعد بن تمیم قرشیہ تھی۔ جس کے مزاج میں وہم اور عقل میں فتور تھا وہ روزانہ دوپہر تک محنت کر کے سوت کاتا کرتی تھی اور دوپہر کے بعد وہ کاتے ہوئے سوت کو توڑ کر ریزہ ریزہ کرڈالتی تھی اور اپنی باندیوں سے بھی تڑواتی تھی، یہی روزانہ کا اس کا معمول تھا۔
 (تفسیر صاوی، ج۳، ص ۱۰۸۹،پ۱۴،النحل:۹۲)
    جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں کھا کر یا اس کے نام پر لوگوں سے کوئی عہد کر کے اپنی قسموں اور عہدوں کو توڑ دیا کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس عورت سے تشبیہ
Flag Counter