Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
333 - 414
اس ''ارذل العمر'' کی کوئی مقدار معین نہیں ہے، تاریخی تجربہ ہے کہ بعض لوگ ساٹھ ہی برس کی عمر میں ایسے ہوجاتے ہیں کہ بعض لوگ ایک سو برس کی عمر پاکر بھی کھوسٹ عمر کی منزل میں نہیں پہنچتے۔ ہاں امام قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ نوے برس کی عمر والے کے تمام قویٰ اور حواس عمل و تصرف سے ناکارہ ہوجاتے ہیں اور وہ ہر قسم کی کمائی اور حج و جہاد وغیرہ کے قابل نہیں رہ جاتے اور یہ عمراور اس کی کیفیات واقعی اس قابل ہیں کہ انسان اس سے خدا کی پناہ مانگے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے اور یوں دعا مانگا کرتے تھے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْکَسَلِ وَاَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وَفِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ
 (صحیح البخاری،ج۳،ص۲۵۷،حدیث۴۷۰۷بتغیرقلیل )
اے اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں کنجوسی سے اور کاہلی سے اور کھوسٹ عمر سے اور قبر کے عذاب سے اور فتنہ دجال سے اور زندگی کے فتنے سے اور موت کے فتنے سے۔

اسی لئے منقول ہے کہ مشہور بزرگ اور مستند عالم دین حضرت محمد بن علی واسطی رحمۃ اللہ علیہ اپنی ذات کے لئے خاص طور پر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
 	یَا رَبِّ لاَ تُحْیِنِیْ اِلٰی زَمَنٍ 	اَکُوْنُ فِیْہِ کَلاَّ عَلٰی اَحَدٍ

 	خُذْ بِیَدِیْ قَبْلَ اَنْ اَقُوْلَ لِمَنْ 	اَلْقَاہُ عِنْدَ الْقِیَام خُذْ بِیَدِیْ
یعنی اے اللہ!مجھے اتنے زمانے تک زندہ مت رکھ کہ میں کسی پر بوجھ بن جاؤں تو اس سے قبل میری دست گیری فرمالے کہ میں ہر ملنے والے سے اٹھتے وقت یہ کہوں کہ تم میرا ہاتھ پکڑلو۔

حدیث شریف میں ہے اور بعض لوگوں نے اس کو حضرت عکرمہ کا قول بتایا ہے کہ جو شخص قرآن کو پڑھتا رہے وہ ارذل العمر(کھوسٹ)کو نہ پہنچے گا اور ایسے ہی جو قرآن میں غوروفکر کرتا رہے گا اور قرآن پر عمل بھی کرتا رہے گا وہ بھی اس کھوسٹ عمر سے محفوظ رہے گا۔
Flag Counter