| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
تھا۔ اس معجزہ کو قرآنِ عظیم نے مختلف سورتوں میں بار بار ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ سورہ طٰہٰ میں ارشاد فرمایا کہ:۔
وَاضْمُمْ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیۡضَآءَ مِنْ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ اٰیَۃً اُخْرٰی ﴿ۙ22﴾لِنُرِیَکَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْکُبْرٰی ﴿ۚ23﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے ایک اور نشانی کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں۔ (پ16،طہ:22،23) اسی معجزہ کا نام ''یدبیضا''ہے جو ایک عجیب اور عظیم معجزہ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دستِ مبارک سے رات اور دن میں آفتاب کی طرح نور نکلتا تھا۔
(تفسیر خزائن العرفان ،ص۵۶۳،پ۱۶،طہ۲۲ )
(۵) مَنّ و سَلوٰی
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام چھ لاکھ بنی اسرائیل کے افراد کے ساتھ میدانِ تیہ میں مقیم تھے تو اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے کھانے کے لئے آسمان سے دو کھانے اتارے۔ ایک کا نام ''من'' اور دوسرے کا نام ''سلویٰ'' تھا۔ من بالکل سفید شہد کی طرح ایک حلوہ تھا۔ یا سفید رنگ کی شہد ہی تھی جو روزانہ آسمان سے بارش کی طرح برستی تھی اور سلویٰ پکی ہوئی بٹیریں تھیں جو دکھنی ہوا کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا کرتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں کا شمار کراتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:۔
وَاَنۡزَلْنَا عَلَیۡکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی
ترجمہ کنزالایمان:۔اور تم پر مَن اور سلویٰ اُتارا ۔(پ1،البقرۃ:57) اس مَن و سلویٰ کے بارے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ حکم تھا کہ روزانہ تم لوگ اس کو کھالیا کرو اور کل کے لئے ہرگز ہرگز اس کا ذخیرہ مت کرنا۔ مگر بعض ضعیف الاعتقاد لوگوں کو یہ