| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ڈر لگنے لگا اگر کسی دن من و سلویٰ نہ اترا تو ہم لوگ اس بے آب و گیاہ، چٹیل میدان میں بھوکے مرجائیں گے۔ چنانچہ اُن لوگوں نے کچھ چھپا کر کل کے لئے رکھ لیا تو نبی کی نافرمانی سے ایسی نحوست پھیل گئی کہ جو کچھ لوگوں نے کل کے لئے جمع کیا تھا وہ سب سڑ گیا اور آئندہ کے لئے اس کا اُترنا بند ہو گیا اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل نہ ہوتے تو نہ کھانا کبھی خراب ہوتا اور نہ گوشت سڑتا، کھانے کا خراب ہونا اور گوشت کا سڑنا اسی تاریخ سے شروع ہوا۔ ورنہ اس سے پہلے نہ کھانا بگڑتا تھا نہ گوشت سڑتا تھا۔
(تفسیر روح البیان،ج۱،پ۱، البقرۃ ۵۷)
(۶) بارہ ہزار یہودی بندر ہو گئے
روایت ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم کے ستر ہزار آدمی ''عقبہ'' کے پاس سمندر کے کنارے ''ایلہ'' نامی گاؤں میں رہتے تھے اور یہ لوگ بڑی فراخی اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کا اس طرح امتحان لیا کہ سنیچر کے دن مچھلی کا شکار اُن لوگوں پر حرام فرما دیا اور ہفتے کے باقی دنوں میں شکار حلال فرما دیا مگر اس طرح اُن لوگوں کو آزمائش میں مبتلا فرمادیا کہ سنیچر کے دن بے شمار مچھلیاں آتی تھیں اور دوسرے دنوں میں نہیں آتی تھیں تو شیطان نے اُن لوگوں کو یہ حیلہ بتا دیا کہ سمندر سے کچھ نالیاں نکال کر خشکی میں چند حوض بنالو اور جب سنیچر کے دن اُن نالیوں کے ذریعہ مچھلیاں حوض میں آجائیں تو نالیوں کا منہ بند کردو۔ اور اس دن شکار نہ کرو بلکہ دوسرے دن آسانی کے ساتھ اُن مچھلیوں کو پکڑلو۔ اُن لوگوں کو یہ شیطانی حیلہ بازی پسند آگئی اور اُن لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ جب مچھلیاں نالیوں اور حوضوں میں مقید ہو گئیں تو یہی اُن کا شکار ہو گیا۔ تو سنیچر ہی کے دن شکار کرنا پایا گیا جو اُن کے لئے حرام تھا۔اس موقع پر ان یہودیوں کے تین گروہ ہو گئے۔ (۱)کچھ لوگ ایسے تھے جو شکار کے اس شیطانی حیلہ سے منع کرتے رہے اور ناراض و بیزار