Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
32 - 414
فَاِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیۡہِمْ اَرْبَعِیۡنَ سَنَۃً ۚ یَتِیۡہُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ ؕ فَلَا تَاۡسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیۡنَ ﴿٪26﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔تو وہ زمین اُن پر حرام ہے چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں تو تم اُن بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ۔ (پ6،المائدۃ:26)

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ چھ لاکھ بنی اسرائیل ایک میدان میں چالیس برس تک بھٹکتے رہے مگر اس میدان سے باہر نہ نکل سکے۔ اسی میدان کا نام ''میدان تیہ''ہے۔ اس میدان میں بنی اسرائیل کے کھانے کے لئے ''من و سلویٰ'' نازل ہوا۔ اور پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا مار دیا تو پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہو گئے۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے بار بار مختلف عنوانوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ جس میں سے سورہ مائدہ میں یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ مذکور ہوا ہے جو بلاشبہ ایک عجیب الشان واقعہ ہے جو بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور شرارتوں کی تعجب خیز اور حیرت انگیز داستان ہے مگر اس کے باوجود بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی محبت و شفقت بنی اسرائیل پر ہمیشہ رہی کہ جب یہ لوگ میدان تیہ میں بھوکے پیاسے ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا مانگ کر اُن لوگوں کے کھانے کے لئے من و سلویٰ نازل کرایا۔ اور پتھر پر عصا مار کر بارہ چشمے جاری کرا دیئے اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صبر اور آپ کے حلم اور تحمل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
			(۴)روشن ہا تھ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہدایت کے لئے اُس کے دربار میں بھیجا تو دو معجزات آپ کو عطا فرما کر بھیجا۔ ایک ''عصا''دوسرا ''یدبیضا''(روشن ہاتھ)حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالتے تھے تو ایک دم آپ کا ہاتھ روشن ہو کر چمکنے لگتا تھا، پھر جب آپ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال دیتے تو وہ اپنی اصلی حالت پر ہو جایا کرتا
Flag Counter