Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
328 - 414
مبارکہ میں پیش کیا تھا جس کا نام ''دلدل'' تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اندرون شہر مدینہ اور اپنے باہر کے سفروں میں اس پر سواری فرمایا کرتے تھے۔ اس کی عمر بہت زیادہ ہوئی یہاں تک کہ اس کے سب دانت ٹوٹ گئے اور اس کی خوراک کے لئے جو کوٹ کر دَلیا بنایا جاتا تھا۔ یہ حضور کی وفات کے بعد مدتوں زندہ رہا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی خلافت کے دوران اس پر سوار ہوئے۔ اور آپ کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی جنگ ِ خوارج کے موقع پر اسی خچر پر سوار ہو کر جنگ کے لئے نکلے۔ پھر آپ کے بعد آپ کے صاحبزادگان حضرت امام حسن و حضرت امام حسین و حضرت محمد بن الحنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی اس کی سواری کا شرف پایا۔
 (تفسیر روح البیان،ج۵، ص۱۱، پ۱۴، النحل: ۸ )
گدھا:۔یہ بھی انبیاء اور رسولوں کی سواری ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملکیت میں بھی دو گدھے تھے، ایک کا نام ''عفیر''اور دوسرے کا نام ''یعفور''تھا۔ روایت ہے کہ ''یعفور'' آپ کو خیبر میں ملا تھا اور اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کلام کیا تھا کہ یا رسول اللہ!میرا نام ''زیاد بن شہاب''ہے اور میرے باپ داداؤں میں ساٹھ ایسے گدھے گزرے ہیں جن پر نبیوں نے سواری فرمائی ہے اور آپ بھی اللہ کے نبی ہیں لہٰذا میری تمنا ہے کہ آپ کے بعد دوسرا کوئی میری پشت پر نہ بیٹھے۔ چنانچہ اس چوپائے کی تمنا پوری ہو گئی کہ آپ کی وفات اقدس کے بعد ''یعفور'' شدتِ غم سے نڈھال ہو کر ایک کنوئیں میں گر پڑا اور فوراً ہی موت سے ہمکنار ہو گیا۔ یہ بھی روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ''یعفور'' کو بھیجا کرتے تھے کہ فلاں صحابی کو بلا کر لاؤ تو یہ جاتا تھا اور صحابی کے دروازہ کو اپنے سر سے کھٹکھٹاتا تھا تو وہ صحابی یعفور کو دیکھ کر سمجھ جاتے کہ حضور نے مجھے بلایا ہے چنانچہ وہ فوراً ہی یعفور کے ساتھ دربار نبوی میں حاضر ہوجایا کرتے تھے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ادنیٰ کپڑا پہنے گا اور بکری کا دودھ دوہے گا اور گدھے کی سواری کریگا۔ اس میں بالکل ہی تکبر نہیں ہو گا۔
 (تفسیر روح البیان،ج۵، ص۱۱، پ۱۴، النحل: ۸ )
Flag Counter