درسِ ہدایت:۔ان چاروں سواریوں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بطور انعام و احسان کے ان جانوروں کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان چاروں سواریوں پر حضرات انبیاء علیہم السلام سوار ہوئے ہیں لہٰذا ان سواریوں کی توہین و تحقیر بہت بڑی گستاخی و بے ادبی ہے جو کفر تک پہنچا دینے والی منحوسیت ہے بلکہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان چوپایوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمت جان کر شکر بجا لائے اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی نسبت سے ان سواریوں کی دل سے قدر کرے اور ہرگز ہرگز ان کی توہین و تحقیر نہ کرے کہ اس میں ایمان کی سلامتی بلکہ ایمان کی نورانیت کا راز مضمر ہے اور ان چاروں سواریوں کے بعد جو دوسری سواریاں ایجاد ہوئی ہیں ان پر بھی سوار ہونا جائز ہے اور ان سواریوں کے بارے میں یہ ایمان رکھنا لازم ہے کہ یہ سب خدا ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں اور یہ سب سواریاں وہی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے