Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
327 - 414
تشریف لائیں گی۔
(تفسیر روح البیان، ج۵، ص ۸۹،پ۱۴، النحل:۷)
''حیات الحیوان'' میں ہے کہ اونٹ کے بالوں کو جلا کر اس کی راکھ اگر بہتے ہوئے خون پر چھڑک دی جائے تو خون فوراً بند ہوجائے گا اور اونٹ کی کلنی اگر کسی عاشق کی آستین میں باندھ دی جائے تو اس کا عشق زائل ہوجائے گا اور اونٹ کا گوشت بہت مقوی باہ ہے۔
      			     (تفسیر روح البیان، ج۵، ص ۹،پ۱۴،النحل:۷)
گھوڑا:۔ سب سے پہلے گھوڑے پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سواری فرمائی۔ آپ سے پہلے یہ وحشی اور جنگلی چوپایہ تھا۔ اسی لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ تم لوگ گھوڑے کی سواری کرو کیونکہ یہ تمہارے باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی میراث ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں کے بعد سب سے زیادہ گھوڑا محبوب تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ گھوڑا میدانِ جنگ میں یہ تسبیح پڑھتا ہے
''سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَّبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْح''
خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند گھوڑے تھے جن پر آپ سواری فرمایا کرتے تھے۔

منقول ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے دریافت فرمایا کہ کون کون سی سواریاں آپ کو پسند ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ گھوڑا اور گدھا اور اونٹ کیونکہ گھوڑا اولو العزم رسولوں کی سواری ہے اور اونٹ حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری ہے اور گدھا حضرت عیسیٰ وحضرت عزیر علیہما السلام کی سواری ہے اور میں کیوں نہ اس چوپائے (گدھے)سے محبت رکھوں جس کو مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے زندہ فرمایا۔
 (تفسیر روح البیان،ج۵، ص ۱۱۔۱۰ (ملخصاً) پ۱۴، النحل:۸)
خچر:۔یہ بھی ایک مبارک سواری ہے۔ روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں چھ خچر تھے۔ ان میں سے ایک سفید رنگ کا تھا جو مقوقس والئ مصر نے بطور ہدیہ آپ کی خدمت
Flag Counter