Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
326 - 414
تک نہ پہنچتے مگر ادھ مرے ہو کر بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے اور وہ پیدا کر ے گا جس کی تمہیں خبر نہیں۔ (پ14،النحل:5۔8)

     اس آیت مبارکہ میں آخری جملہ
وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸﴾
میں قیامت تک عالم وجود میں آنے والے تمام بار برداری کے ذرائع اور قسم قسم کی ان مختلف سواریوں کے پیدا ہونے کا بیان ہے جو نزولِ قرآن کے وقت تک ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔ مثلاً سائیکل، موٹر، ریل گاڑیاں، سڑکیں، بحری جہاز، ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر، راکٹ وغیرہ وغیرہ تمام نقل و حمل کے سامان اور سواریوں کے ذرائع سب کا اجمالاً ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کا اظہار اور غیب کی خبر کا اعلانِ عام فرمایا ہے۔ ذرائع نقل و حمل اور سواریوں کے علاوہ اس آیت میں تو اس قدر عموم ہے کہ اس میں قیامت تک پیدا ہونے والی ہر ہر چیز اور تمام کائناتِ عالم کا اجمالاً بیان ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
چاروں سواریاں جو نزولِ قرآن کے وقت عرب میں عام تھیں۔ ان کے بارے میں کچھ خصوصیات حسب ِ ذیل ہیں جو یاد رکھنے کے قابل ہیں۔

اونٹ: ۔ یہ بہت سے نبیوں اور رسولوں کی سواری ہے۔ خود حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی سواری فرمائی اور آپ کی دو اونٹنیاں بہت مشہور ہیں۔ ایک ''قصویٰ'' اور دوسری ''عضباء'' جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کبھی دوڑ میں کسی اونٹ سے مغلوب نہیں ہوئی تھی مگر ایک مرتبہ ایک اعرابی کے اونٹ سے دوڑ میں پیچھے رہ گئی تو حضرات صحابہ کرام کو بہت شاق گزرا۔ اس موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پر یہ حق ہے کہ جب وہ کسی دنیا کی چیز کو بلند فرما دیتا ہے تو اس کو پست بھی کردیتا ہے۔ مروی ہے کہ آپ کی اونٹنی ''عضباء''نے آپ کی وفات کے بعد غم میں نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور وفات پا گئی اور بعض روایتوں میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اسی اونٹنی پر سوار ہو کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میدانِ محشر میں
Flag Counter