Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
320 - 414
اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔(پ12،ھود:44)

اور حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی سے اترنے کا حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:
قِیۡلَ یٰنُوۡحُ اہۡبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیۡکَ وَعَلٰۤی اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَکَ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔ فرمایا گیا اے نوح کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر۔(پ۱۲، ھود:۴۸)

درسِ ہدایت:۔حضرت نوح علیہ السلام کے اس واقعہ میں بڑی بڑی عبرتوں کے سامان ہیں جن کے انوار و تجلیات سے قلوب ِ مومنین پر ایسی ایمانی روشنی پڑتی ہے جس سے مومنین کا سینہ نور ِ عرفان و جلوہ ایمان سے منور اور روشن ہوجاتا ہے۔ چند تجلیوں کی نشاندہی حاضر ہے:

(۱)حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کی ایذاء رسانیوں اور دلخراش طعنوں اور گالیوں کے باوجود صبر و تحمل کے ساتھ اپنی قوم کو ہدایت کا درس دیتے رہے اور جب تک ان پر وحی نہیں آگئی کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اس وقت تک آپ برابر ہدایت کا وعظ سناتے ہی رہے۔ جب بذریعہ وحی آپ ان لوگوں کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو آپ نے ان ظالموں کے لئے ہلاکت کی دعا فرمائی۔ قوم مسلم کے واعظوں اور ہادیوں کے لئے حضرت نوح علیہ السلام کا اسوہ حسنہ چراغ ہدایت و منارئہ نور ہے کہ وہ بھی صبر و استقلال کے ساتھ برابر تبلیغ و ارشاد کا کام جاری رکھیں۔

(۲)حضرت نوح علیہ السلام اور مومنین طوفان کے عظیم سیلاب میں جب کہ طوفان کی موجیں پہاڑوں کی طرح سر اُٹھا رہی تھیں، کشتی پر سوار تھے اور طوفانی موجوں کے سیلاب ِ عظیم میں ایک تنکے کی طرح یہ کشتی ہچکولے کھاتی چلی جا رہی تھی۔ مگر حضرت نوح علیہ السلام اور مومنین توکل کی ایسی منزل بلند میں تھے کہ نہ ان لوگوں کو کوئی گھبراہٹ تھی نہ کوئی پریشانی۔ اس میں
Flag Counter