| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
مومنین کے لئے یہ ہدایت ہے کہ بڑی سے بڑی مصیبت کے وقت میں بھی مومن کو اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھ کر مطمئن رہنا چاہے۔ (۳)حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا کنعان کافر تھا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ نیکوں کی اولاد کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ نیک ہی ہوں۔ بروں کی اولاد اچھی اور اچھوں کی اولاد بری ہوسکتی ہے۔ یہ خداوند تعالیٰ کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے۔ وہ جس کو چاہے اچھا بنا دے اور جس کو چاہے برا بنا دے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۲۹)ایک گستاخ پر بجلی گر پڑی
ایک شخص جو کفار عرب کے سرداروں میں سے تھا اس کے پاس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چند صحابہ کرام (علیہم الرضوان)کو تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا۔ چنانچہ ان حضرات نے اس کے پاس پہنچ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنا کر اسلام کی دعوت دی تو اس گستاخ نے ازراہ ِ تمسخر کہا کہ اللہ کون ہے؟ کیسا ہے اور کہاں ہے؟ کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے یا تانبے کا؟ اس کا یہ متکبرانہ اور گستاخانہ جواب سن کر صحابہ کرام (علیہم الرضوان)کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ان حضرات نے بارگاہ ِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں واپس حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس شخص سے بڑھ کر کافر اور باری تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والا تو ہم لوگوں نے دیکھا ہی نہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ دوبارہ اس کے پاس جاؤ۔ چنانچہ
یہ حضرات دوبارہ اس کے پاس پہنچے، تو اس خبیث نے پہلے سے بھی زیادہ گستاخانہ الفاظ زبان سے نکالے۔ صحابہ کرام (علیہم الرضوان)اس کی گستاخیوں اور بدزبانیوں سے رنجیدہ ہو کر دربارِ نبوت میں واپس پلٹ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ان صحابہ کرام (علیہم الرضوان)کو اس کے پاس بھیجا جہاں یہ لوگ پہنچ کر اس کو دعوتِ اسلام دینے لگے