لئے کسی کو بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو سب سے پہلے مرغی نے کہا کہ میں روئے زمین کی خبر لاؤں گی تو آپ نے اس کو پکڑ لیا اور اس کے بازوؤں پر مہر لگا کر فرمایا کہ تجھ پر میری مہر ہے، تو پرند ہوتے ہوئے بھی لمبی اُڑان نہ اُڑ سکے گی اور میری امت تجھ سے فائدہ اٹھائے گی۔ پھر آپ نے کوے کو بھیجا تو وہ ایک مردار دیکھ کر اس پر گر پڑا اور واپس نہیں آیا۔ تو آپ نے اس پر لعنت فرما دی اور اس کے لئے بددعا فرما دی کہ وہ ہمیشہ خوف میں مبتلا رہے۔ چنانچہ کوے کو حل و حرم میں کہیں بھی پناہ نہیں ہے۔ پھر آپ نے کبوتر کو بھیجا تو وہ زمین پر نہیں اُترا بلکہ ملک سبا سے زیتون کی ایک پتی چونچ میں لے کر آگیا تو آپ نے فرمایا کہ تم زمین پر نہیں اُترے اس لئے پھر جاؤ اور روئے زمین کی خبر لاؤ۔ تو کبوتر دوبارہ روانہ ہوا اور مکہ مکرمہ میں حرم کعبہ کی زمین پر اُترا اور دیکھ لیا کہ پانی زمین حرم سے ختم ہو چکا ہے اور سرخ رنگ کی مٹی ظاہر ہو گئی ہے۔ کبوتر کے دونوں پاؤں سرخ مٹی سے رنگین ہو گئے۔ اور وہ اسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام کے پاس واپس آگیا اور عرض کیا کہ اے خدا کے پیغمبر! آپ میرے گلے میں ایک خوبصورت طوق عطا فرمایئے اور میرے پاؤں میں سرخ خضاب مرحمت فرمایئے اور مجھے زمین حرم میں سکونت کا شرف عطا فرمایئے۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے کبوتر کے سر پر دست شفقت پھیرا اور اس کے لئے یہ دعا فرما دی کہ اس کے گلے میں دھاری کا ایک خوبصورت ہار پڑا رہے اور اس کے پاؤں سرخ ہوجائیں اور اس کی نسل میں خیر و برکت رہے اور اس کو زمین حرم میں سکونت کا شرف ملے۔