Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
318 - 414
قرآن مجید میں حضرت حق جل جلالہ نے اس واقعہ کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
وَنَادٰی نُوۡحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِیۡ مِنْ اَہۡلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَ اَنۡتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیۡنَ ﴿45﴾قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ۫٭ۖ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الْجٰہِلِیۡنَ ﴿46﴾قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِکَ اَنْ اَسْـَٔلَکَ مَا لَـیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلْمٌ ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیۡ وَ تَرْحَمْنِیۡۤ اَکُنۡ مِّنَ الْخٰسِرِیۡنَ ﴿47﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور نوح نے اپنے رب کو پکارا عرض کی اے میرے رب میرا بیٹا بھی تو میرا گھر والا ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑھ کر حکم والا فرمایا اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن۔ عرض کی اے میرے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں ریا کار ہوجاؤں۔(پ12،ھود:45۔47)
                 (۲۸)طوفان کیونکر ختم ہوا
جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر پہنچ کر ٹھہر گئی اور سب کفار غرق ہو کر فنا ہوچکے تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اے زمین! جتنا پانی تجھ سے چشموں کی صورت میں نکلا ہے تو ان سب پانیوں کو پی لے۔ اور اے آسمان! تو اپنی بارش بند کردے۔ چنانچہ پانی گھٹنا شروع ہو گیا اور طوفان ختم ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ اے نوح! آپ کشتی سے اُتر جایئے۔ اللہ کی طرف سے سلامتی اور برکتیں آپ پر بھی ہیں اور ان لوگوں پر بھی ہیں جو کشتی میں آپ کے ساتھ رہے۔
 (پ۱۲،ھود:۴۸)
حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے روئے زمین کی خبر لانے کے
Flag Counter