Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
317 - 414
میں چھپ گیا اور غار کے تمام سوراخوں کو بند کرلیا مگر جب طوفان کی موج اس پہاڑ کی چوٹی سے ٹکرائی تو غار میں پانی بھر گیا ۔اس طرح کنعان اپنے بول و براز میں لت پت ہو کر غرق ہو گیا۔
          			(تفسیر صاوی، ج۳،ص ۹۱۴،پ۱۲،ھود:۴۳)
قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے اس واقعہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ:
وَنَادٰی نُوۡحُ ۣابْنَہٗ وَکَانَ فِیۡ مَعْزِلٍ یّٰـبُنَیَّ ارْکَبۡ مَّعَنَا وَلَا تَکُنۡ مَّعَ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿42﴾قَالَ سَاٰوِیۡۤ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیۡ مِنَ الْمَآءِ ؕ قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللہِ اِلَّا مَن رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَیۡنَہُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیۡنَ ﴿43﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا اے میرے بچے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو بولا اب میں کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور اُن کے بیچ میں موج آڑے آئی تو وہ ڈوبتوں میں رہ گیا۔ (پ12،ھود:42)

بیٹے کو اپنے سامنے اس طرح غرقاب ہوتے دیکھ کر حضرت نوح علیہ السلام کو بڑا صدمہ و رنج پہنچا اور آپ نے جناب باری تعالیٰ میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! میرا بیٹا کنعان تو میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو احکم الحاکمین ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح! یہ آپ کا بیٹا کنعان آپ کے ان گھر والوں میں سے نہیں ہے جن کو بچانے کاہم نے وعدہ کیا تھالہذا،اے نوح! تمہارا یہ سوال ٹھیک نہیں ہے اس لئے تم مجھ سے ایسی کسی بات کا سوال نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے تو حضرت نوح علیہ السلام نے کہا کہ اے میرے پروردگار! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے کسی ایسی بات کا سوال کروں جو مجھے معلوم نہیں ہے اور اگر تو مجھے معاف فرما کر رحم نہ فرمائے گا تو میں نقصان میں پڑ جاؤں گا۔
    (تفسیر صاوی،ج۳، ص ۹۱۶۔۹۱۵(ملخصاً)،پ۱۲،ھود، : ۴۵۔ ۴۷)
Flag Counter