| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ایک پہاڑ پر ٹھہرے گی تو تمام پہاڑوں نے تکبر کیا۔ لیکن ''جودی''پہاڑ نے تواضع اور عاجزی کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ شرف بخشا کہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔اور ایک روایت ہے کہ بہت دنوں تک اس کشتی کی لکڑیاں اور تختے باقی رہے تھے۔ یہاں تک کہ اگلی امتوں کے بعض لوگوں نے اس کشتی کے تختوں کو جودی پہاڑ پر دیکھا تھا۔محرم کی دسویں تاریخ عاشورا کے دن یہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔ چنانچہ اس تاریخ کو کشتی کی تمام مخلوق یعنی انسان اور وحوش و طیور وغیرہ سبھی نے شکرانہ کا روزہ رکھا اور حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی سے اُتر کر سب سے پہلی جو بستی بسائی اس کا نام ''ثمانین''رکھا۔ عربی زبان میں ثمانین کے معنی ''اَسی'' ہوتے ہیں ،چونکہ کشتی میں ۸۰ آدمی تھے اس لئے اس گاؤں کا نام ''ثمانین''رکھ دیا گیا۔
(تفسیر صاوی، ج۳، ص ۹۱۵۔۹۱۴،پ۱۲، ھود :۴۴)
وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوۡدِیِّ وَقِیۡلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور کشتی کوہ جودی پر ٹھہری اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔(پ12،ھود:44)
(۲۷)نوح علیہ السلام کا بیٹا غرق ہو گیا
حضرت نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا جس کا نام ''کنعان'' تھا۔ وہ صدقِ دل سے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا، بلکہ وہ منافق تھا۔ اور اپنے کفر کو چھپائے رکھتا تھا۔ لیکن طوفان کے وقت اس نے اپنے کفر کو ظاہر کردیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی پر سوار ہوتے وقت اس کو بلایا اور فرمایا کہ میرے پیارے بیٹے! تم کشتی پر سوار ہوجاؤ اور کافروں کا ساتھ چھوڑ دو تو اس نے کہا کہ میں طوفان میں پہاڑوں پر چڑھ کر پناہ لے لوں گا تو آپ نے بڑی دل سوزی کے ساتھ فرمایا کہ بیٹا! آج خدا کے عذاب سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا۔ ہاں جس پر خداوند کریم اپنا رحم فرمائے بس وہی بچ سکتا ہے۔ باپ بیٹے میں یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک زور دار موج آئی اور کنعان غرق ہو گیا اور ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ کنعان ایک بلند پہاڑ پر چڑھ کر ایک غار