Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
315 - 414
فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْہَمِرٍ ﴿۫ۖ11﴾وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوۡنًا فَالْتَقَی الْمَآءُ عَلٰۤی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ﴿ۚ12﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیئے زور کے بہتے پانی سے اور زمین چشمے کر کے بہادی تو دونوں پانی مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی۔(پ27،القمر:11)

یعنی طوفان آگیا اور ساری دنیا غرق ہو گئی۔
(تفسیر صاوی، ج۳،ص ۹۱۳،پ۱۲، ھود:۴۲)
طوفان کتنا زور دار تھا اور طوفانی سیلاب کی موجوں کی کیا کیفیت تھی؟ اس کی منظر کشی قرآن مجید نے ان لفظوں میں فرمائی ہے:۔
وَ ہِیَ تَجْرِیۡ بِہِمْ فِیۡ مَوْجٍ کَالْجِبَالِ
ترجمہ کنزالایمان:۔اور وہ انہیں لئے جا رہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ۔(پ12،ھود:42)

حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہو گئے اور کشتی طوفانی موجوں کے تھپیڑوں سے ٹکراتی ہوئی برابر چلی جا رہی تھی یہاں تک کہ سلامتی کے ساتھ کوہِ جودی پر پہنچ کر ٹھہر گئی۔ کشتی پر سوار ہوتے وقت حضرت نوح علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی تھی کہ:
بِسْمِ اللہِ مَجْرٖؔؔىھَا وَمُرْسٰىہَا ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿41﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔(پ12،ھود:41)
                 (۲۶)جودی پہاڑ
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے تھپیڑوں میں چھ ماہ تک چکر لگاتی رہی یہاں تک کہ خانہ کعبہ کے پاس سے گزری اور کعبہ مکرمہ کا سات چکر طواف بھی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی، جو عراق کے ایک شہر ''جزیرہ'' میں واقع ہے۔

روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر پہاڑ کی طرف یہ وحی کی کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کسی
Flag Counter