| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں اور کشتی بنا ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے جیسا تم ہنستے ہو تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے۔(پ12، ھود: 36 ۔39)
(۲۵)طوفان برپا کرنے والا تنور
یوں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو دوسو برس پہلے ہی بذریعہ وحی مطلع کردیا تھا کہ آپ کی قوم طوفان میں غرق کردی جائے گی۔ مگر طوفان آنے کی نشانی یہ مقرر فرما دی تھی کہ آپ کے گھر کے تنور سے پانی ابلنا شروع ہوگا۔ چنانچہ پتھر کے اس تنور سے ایک دن صبح کے وقت پانی ابلنا شروع ہو گیا اور آپ نے کشتی پر جانوروں اور انسانوں کو سوار کرانا شروع کردیا پھر زور دار بارش ہونے لگی جو مسلسل چالیس دن اور چالیس رات موسلا دھار برستی رہی اور زمین بھی جا بجا شق ہو گئی اور پانی کے چشمے پھوٹ کر بہنے لگے۔ اس طرح بارش اور زمین سے نکلنے والے پانیوں سے ایسا طوفان آگیا کہ چالیس چالیس گز اُونچے پہاڑوں کی چوٹیاں ڈوب گئیں۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے کہ:۔
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوْجَیۡنِ اثْنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ؕ وَمَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۴۰﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آیا اور تنور اُبلا ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر ومادہ اور جن پر بات پڑچکی ہے ان کے سوا اپنے گھر والوں اور باقی مسلمانوں کو اوراس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے۔(پ۱۲،ھود:۴۰) اور آسمان و زمین کے پانی کی فراوانی اور طغیانی کا بیان فرماتے ہوئے ارشادِ ربانی ہوا کہ:۔