Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
314 - 414
ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں اور کشتی بنا ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے جیسا تم ہنستے ہو تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے۔(پ12، ھود: 36 ۔39)
             (۲۵)طوفان برپا کرنے والا تنور
یوں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو دوسو برس پہلے ہی بذریعہ وحی مطلع کردیا تھا کہ آپ کی قوم طوفان میں غرق کردی جائے گی۔ مگر طوفان آنے کی نشانی یہ مقرر فرما دی تھی کہ آپ کے گھر کے تنور سے پانی ابلنا شروع ہوگا۔ چنانچہ پتھر کے اس تنور سے ایک دن صبح کے وقت پانی ابلنا شروع ہو گیا اور آپ نے کشتی پر جانوروں اور انسانوں کو سوار کرانا شروع کردیا پھر زور دار بارش ہونے لگی جو مسلسل چالیس دن اور چالیس رات موسلا دھار برستی رہی اور زمین بھی جا بجا شق ہو گئی اور پانی کے چشمے پھوٹ کر بہنے لگے۔ اس طرح بارش اور زمین سے نکلنے والے پانیوں سے ایسا طوفان آگیا کہ چالیس چالیس گز اُونچے پہاڑوں کی چوٹیاں ڈوب گئیں۔

چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے کہ:۔
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوْجَیۡنِ اثْنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ؕ وَمَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۴۰﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آیا اور تنور اُبلا ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر ومادہ اور جن پر بات پڑچکی ہے ان کے سوا اپنے گھر والوں اور باقی مسلمانوں کو اوراس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے۔(پ۱۲،ھود:۴۰)

اور آسمان و زمین کے پانی کی فراوانی اور طغیانی کا بیان فرماتے ہوئے ارشادِ ربانی ہوا کہ:۔
Flag Counter