| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
جب طوفان آگیا تو آپ نے کشتی میں درندوں، چرندوں اور پرندوں اور قسم قسم کے حشرات الارض کا ایک ایک جوڑا نر ومادہ سوار کرا دیا اور خود آپ اور آپ کے تینوں فرزند یعنی حام، سام اور یافث اور ان تینوں کی بیویاں اور آپ کی مومنہ بیوی اور۷۲ مومنین مرد و عورت کل ۸۰ انسان کشتی میں سوار ہو گئے اور آپ کی ایک بیوی ''واعلہ'' جو کافرہ تھی، اور آپ کا ایک لڑکا جس کا نام ''کنعان'' تھا، یہ دونوں کشتی میں سوار نہیں ہوئے اور طوفان میں غرق ہو گئے۔ روایت ہے کہ جب سانپ اور بچھو کشتی میں سوار ہونے لگے تو آپ نے ان دونوں کو روک دیا۔ تو ان دونوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! آپ ہم دونوں کو سوار کرلیجئے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ جو شخص
سَلاَمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ
پڑھ لے گا ہم دونوں اس کو ضرر نہیں پہنچائیں گے تو آپ نے ان دونوں کو بھی کشتی میں بٹھالیا۔ طوفان میں کشتی والوں کے سوا ساری قوم اور کل مخلوق غرق ہو کر ہلاک ہو گئی اور آپ کی کشتی ''جودی پہاڑ'' پر جا کر ٹھہر گئی اور طوفان ختم ہونے کے بعد آپ مع کشتی والوں کے زمین پر اُتر پڑے اور آپ کی نسل میں بے پناہ برکت ہوئی کہ آپ کی اولاد تمام روئے زمین پر پھیل کر آباد ہوگئی اسی لئے آپ کا لقب ''آدم ثانی'' ہے۔
(تفسیر صاوی،پ۱۲، ھود: ۳۶۔۳۹)
قرآن مجید میں خداوند (عزوجل)نے اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ:
وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤْمِنَ مِنۡ قَوْمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿ۚ36﴾وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغْرَقُوۡنَ ﴿37﴾ وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ ۟ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیۡہِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوْمِہٖ سَخِرُوۡا مِنْہُ ؕ قَالَ اِنۡ تَسْخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنۡکُمْ کَمَا تَسْخَرُوۡنَ ﴿ؕ38﴾فَسَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخْزِیۡہِ وَیَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿39﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور نوح کو وحی ہوئی کہ تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے