دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے میرے پروردگار! تو میری قوم کو بخش دے اور ہدایت عطا فرما کیونکہ یہ مجھ کو نہیں جانتے ہیں۔
اور قوم کا یہ حال تھا کہ ہر بوڑھا باپ اپنے بچوں کو یہ وصیت کر کے مرتا تھا کہ نوح (علیہ السلام) بہت پرانے پاگل ہیں اس لئے کوئی ان کی باتوں کو نہ سنے اور نہ ان کی باتوں پر دھیان دے ،یہاں تک کہ ایک دن یہ وحی نازل ہوگئی کہ اے نوح ! اب تک جو لوگ مومن ہوچکے ہیں ان کے سوا اور دوسرے لوگ کبھی ہرگز ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کے بعد آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے ۔ اور آپ نے اس قوم کی ہلاکت کے لئے دعا فرمادی۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ایک کشتی تیار کریں چنانچہ ایک سو برس میں آپ کے لگائے ہوئے ساگوان کے درخت تیار ہو گئے اور آپ نے ان درختوں کی لکڑیوں سے ایک کشتی بنائی جو ۸۰ گز لمبی اور ۵۰ گز چوڑی تھی اور اس میں تین درجے تھے، نچلے طبقے میں درندے، پرندے اور حشرات الارض وغیرہ اور درمیانی طبقے میں چوپائے وغیرہ جانوروں کے لئے اور بالائی طبقے میں خود اور مومنین کے لئے جگہ بنائی۔ اس طرح یہ شاندار کشتی آپ نے بنائی اور ایک سو برس کی مدت میں یہ تاریخی کشتی بن کر تیار ہوئی جو آپ کی اور مومنوں کی محنت اور کاری گری کا ثمرہ تھی۔ جنہوں نے بے پناہ محنت کر کے یہ کشتی بنائی تھی۔
جب آپ کشتی بنانے میں مصروف تھے تو آپ کی قوم آپ کا مذاق اُڑاتی تھی۔ کوئی کہتا کہ اے نوح! اب تم بڑھئی بن گئے؟ حالانکہ پہلے تم کہا کرتے تھے کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ کوئی کہتا اے نوح! اس خشک زمین میں تم کشتی کیوں بنا رہے ہو؟ کیا تمہاری عقل ماری گئی ہے؟ غرض طرح طرح کا تمسخر و استہزاء کرتے اور قسم قسم کی طعنہ بازیاں اور بدزبانیاں کرتے رہتے تھے اور آپ ان کے جواب میں یہی فرماتے تھے کہ آج تم ہم سے مذاق کرتے ہو لیکن مت گھبراؤ جب خدا کا عذاب بصورتِ طوفان آجائے گا تو ہم تمہارا مذاق اُڑائیں گے۔