Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
311 - 414
 (دوم)دوسرا قول یہ ہے کہ خدا کی توحید کے ساتھ رسول کی رسالت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے اور فرعون نے
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسْرَآءِیۡلَ
کہا یعنی صرف خدا کی وحدانیت کا اقرار کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان نہیں لایا۔ اس لئے وہ مومن نہ ہو سکا۔    (پ11، یونس:90)

(سوم)تیسر اقول یہ ہے کہ فرعون نے ایمان لانے کے قصد سے کلمہ ایمان کا تلفظ نہیں کیاتھا بلکہ صرف غرق سے بچنے کے لئے یہ کلمہ کہا تھا جیسا کہ اس کی عادت تھی کہ ہر مصیبت اور عذاب نازل ہونے کے وقت وہ گڑگڑا کر خدا کی طرف رجوع کرتا تھا۔ لیکن مصیبت ٹل جانے کے بعد پھر
اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی
کہہ کر اپنی خدائی کا ڈنکا بجایا کرتا تھا۔(پ۳۰،النّٰزعٰت: ۲۴)

معلوم ہوا کہ صرف کلمہ اسلام کا تلفظ جب کہ ایمان لانے کی نیت نہ ہو بلکہ جان بچانے کے لئے کہا ہو، ایمان کے لئے کافی نہیں ہے۔ لہٰذا فرعون کا ایمان مقبول نہیں ہوا اور صحیح قول یہی ہے کہ فرعون کفر ہی کی حالت میں غرق ہو کر مرا۔ اس پر قرآن مجید کی آیتیں اور حدیثیں شاہد عدل ہیں۔ اسی لئے علامہ صاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا کہ جن لوگوں نے یہ کہا کہ فرعون مومن ہو کر مرا، ان لوگوں کا قول قابلِ اعتبار نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
              (۲۴)نوح علیہ السلام کی کشتی
حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو خدا کا پیغام سناتے رہے مگر ان کی بدنصیب قوم ایمان نہیں لائی بلکہ طرح طرح سے آپ کی تحقیر و تذلیل کرتی رہی اور قسم قسم کی اذیتوں اور تکلیفوں سے آپ کو ستاتی رہی یہاں تک کہ کئی بار ان ظالموں نے آپ کو اس قدر زدو کوب کیا کہ آپ کو مردہ خیال کر کے کپڑوں میں لپیٹ کر مکان میں ڈال دیا۔ مگر آپ پھر مکان سے نکل کر دین کی تبلیغ فرمانے لگے۔ اسی طرح بار ہا آپ کا گلا گھونٹتے رہے یہاں تک کہ آپ کا دم گھٹنے لگا اور آپ بے ہوش ہوجاتے مگر ان ایذاؤں اور مصیبتوں پر بھی آپ یہی
Flag Counter