Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
310 - 414
کے لئے نشانی ہو اور بیشک لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔ (پ11، یونس90)

فرعون کے غرق ہوجانے کے بعد بھی بنی اسرائیل پر اس کی ہیبت کا اس درجہ دبدبہ چھایا ہوا تھا کہ لوگوں کو فرعون کی موت میں شک و شبہ ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش کو خشکی پر پہنچا دیا اور دریا کی موجوں نے اس کی لاش کو ساحل پر ڈال دیا تاکہ لوگ اس کو دیکھ کر اس کی موت کا یقین بھی کرلیں اور اس کے انجام سے عبرت بھی حاصل کریں۔

مشہور ہے کہ اس کے بعد ہی سے پانی نے لاشوں کو قبول کرنا چھوڑ دیا اور ہمیشہ پانی لاشوں کو اوپر تیراتا رہتا ہے یا کنارے پر پھینک دیتا ہے۔
              		 	(تفسیر صاوی، ج۳، ص ۸۹۲،پ۱۱، یونس:۹۲)
درسِ ہدایت:۔فرعون نے باوجودیکہ تین مرتبہ اپنے ایمان کا اعلان کیا مگر اس کا ایمان پھر بھی مقبول نہیں ہوا اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس کے بارے میں مفسرین نے تین وجہیں بیان فرمائیں ہیں:

(اول)یہ کہ فرعون نے اپنے ایمان کا اقرار اس وقت کیا جب عذابِ الٰہی اس کے سر پر مسلط ہو گیا اور موت کا غرغرہ اس پر طاری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاۡسَنَا ؕ
یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آجاتا ہے تو اس وقت ان کا ایمان لانا ان کو کچھ بھی نفع نہیں پہنچاتا۔(پ24،المومن:85 )

چونکہ فرعون، عذاب آجانے کے بعد، جب موت کا غرغرہ سوار ہو گیا، اس وقت ایمان لایا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ایمان کو قبول نہیں فرمایا اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس کے منہ میں کیچڑ بھردیں اور یہ کہہ دیں کہ اب تو ایمان لایا ہے حالانکہ اس سے پہلے تو ہمیشہ ایمان لانے سے انکار کرتا رہا اور لوگوں کو گمراہ کر کے فساد پھیلاتا رہا۔
Flag Counter