یہ بھی ایک حکایت منقول ہے کہ جب فرعون تختِ سلطنت پر بیٹھ کر خدائی کا دعویٰ کرتا تھا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام آدمی کی شکل میں اس کے پاس یہ فتویٰ طلب کرنے کے لئے تشریف لے گئے کہ کیا فرماتے ہیں بادشاہ اس غلام کے بارے میں جو اپنے مولیٰ کے دیئے ہوئے مال اور اس کی نعمتوں میں پلا بڑھا پھر اس نے اپنے مولیٰ کی ناشکری کی اور اس کے حقوق کا انکار کرتے ہوئے خود اپنی سیادت کا اعلان کردیا بلکہ خدائی کا دعویٰ کرنے لگا تو فرعون نے اس کا جواب یہ لکھا کہ ایسا غلام جو اپنے مولیٰ کی ناشکری کر کے اپنے مولیٰ کا باغی ہو گیا اس کی سزا یہی ہے کہ وہ دریا میں غرق کردیا جائے چنانچہ جب ڈوبتے وقت فرعون پر موت کا غرغرہ سوار ہو گیا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرعون کا وہ دستخطی فتویٰ اس کو دکھایا اس کے بعد فرعون مر گیا۔
(تفسیر صاوی،ج۳، ص ۸۹۱، پ۱۱، یونس:۹۰)
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
وَجٰوَزْنَا بِبَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوۡدُہٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسْرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿90﴾آٰلۡـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿91﴾فَالْیَوْمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴿٪92﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آلیا بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا آج ہم تیری لاش کوا ترا دیں گے کہ تو اپنے پچھلوں