Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
308 - 414
علیہ وسلم کو اس مسجد میں قدم رکھنے کی بھی ممانعت فرما دی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مسجد کو نہ صرف ویران فرما دیا بلکہ اس کو جلا کر نیست و نابود کرڈالا۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بھی اگر کسی مسجد کو گمراہ فرقوں والے اہل حق کے خلاف کمین گاہ اور جاسوسی کا مرکز بنا کر اہل حق کے خلاف فتنہ پردازیاں کرنے لگیں تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس مسجد میں نماز کے لئے نہ جائیں بلکہ اس کا بائیکاٹ کر کے اس کو ویران کردیں ۔اور ہرگز ہرگز نہ اس مسجد میں نماز پڑھیں، نہ اس کی تعمیر و آبادکاری میں کوئی امداد و تعاون کریں۔

یا پھر تمام مسلمان مل کر گمراہ فرقوں کو اس مسجد سے بے دخل کردیں اور اس مسجد کو اپنے قبضے میں لے کر گمراہ کا تسلط ختم کر دیں تاکہ ان لوگوں کے شر و فساد اور فتنہ انگیزیوں سے مسجد ہمیشہ کے لئے پاک ہوجائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
              (۲۳)فرعون کا ایمان مقبول نہیں ہوا
فرعون جب اپنے لشکروں کے ساتھ دریا میں غرق ہونے لگا تو ڈوبتے وقت تین مرتبہ اس نے اپنے ایمان کا اعلان کیا مگر اس کا ایمان مقبول نہیں ہوا اور وہ کفر ہی کی حالت میں مرا۔ لہٰذا بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ فرعون مومن ہو کر مرا، ان کا قول قابلِ اعتبار نہیں ہے۔
             				(تفسیر صاوی،ج۳، ص ۸۹۱،پ۱۱،یونس:۹۰)
    ڈوبتے وقت ایک مرتبہ فرعون نے ''اٰمَنْتُ'' کہا یعنی میں ایمان لایا۔ دوسری مرتبہ
اَنَّہ، لَآ اِلٰہَ اِلاَّ الَّذِیٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْ اِسْرَآئِیْلَ
کہا یعنی اس اللہ کے سوا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے دوسرا کوئی خدا نہیں ہے اور تیسری بار یہ کہا کہ
وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۹۰﴾
یعنی میں مسلمان ہوں۔
 (پ۱۱، یونس:۹۰)
روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرعون کے منہ میں خداوند تعالیٰ کے حکم سے
Flag Counter