| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
فضیلت اور ان کی محبت و جاں نثاریئ رسول کا وہ نشانِ اعظم ہے جو قیامت تک آفتاب ِ عالمتاب کی طرح درخشاں اور روشن رہے گا۔ کیوں نہ ہو کہ پروردگار نے انہیں اپنے رسول کے ''یارِ غار'' ہونے کی سند مستند قرآن میں دے دی ہے جو کبھی ہرگز ہرگز نہیں مٹ سکتی ہے۔ سبحان اللہ! حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ وہ فضل و شرف ہے جو نہ کسی کو ملا ہے نہ کسی کو ملے گا۔
مرتبہ حضرت صدیق کا ہو کس سے بیاں
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا(۲۲)مسجد ِ ضرار جلا دی گئی
منافقین کو یہ تو جراء ت ہوتی نہ تھی کہ علانیہ اسلام کی مخالفت کرتے۔ مگر وہ لوگ درپردہ اسلام کی بیخ کنی میں ہمیشہ مصروف رہتے اور اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ مسلمانوں میں اختلاف اور پھوٹ ڈال کر اسلام کو نقصان پہنچائیں۔ چنانچہ اس مقصد کی تکمیل کے لئے جہاں ان بے ایمانوں نے دوسری بہت سی فتنہ سامانیاں برپا کررکھی تھیں، ان میں سے ایک واقعہ رجب ۹ھ میں بھی رونما ہوا جو درحقیقت نہایت ہی خطرناک سازش تھی۔ مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل نے منافقین کی اس خوفناک مہم سے بذریعہ وحی آگاہ فرمادیا اور دشمنانِ اسلام کی ساری اسکیموں پر پانی پھر گیا۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ رجب ۹ ھ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ ''تبوک''کے میدان میں جو مدینہ منورہ سے چودہ منزل پر دمشق کے راستہ پر واقع ہے۔ ''ہرقل''شاہِ روم مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے لشکر جمع کررہا ہے آپ نے عرب میں سخت گرمی اور قحط کے باوجود جہاد کے لئے اعلان فرما دیا اور مسلمان جوق در جوق شوقِ جہاد میں مدینہ کے اندر جمع ہونے لگے۔