ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیاریوں ہی میں مصروف تھے کہ منافقین نے وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سوچا کہ مسجد ''قبا''کے مقابلہ میں اس حیلہ سے ایک مسجد تیار کریں کہ جو لوگ کسی عذر کی وجہ سے مسجد نبوی میں نہ جا سکیں وہ لوگ یہاں نماز پڑھ لیا کریں اور منافقوں کا خاص مقصد یہ تھا کہ اس مسجد کو اسلام کی تخریب کاری کے لئے اڈہ بنا کر اور اس میں جمع ہو کر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے اور اسکیمیں بناتے رہیں اور شاہ ِ روم کی خفیہ امدادوں اور اسلحہ وغیرہ کے ذخیروں کا اس مسجد کو مرکز بنائیں اور یہیں سے اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کا جال پورے عالم اسلام میں بچھاتے رہیں ۔یہ سوچ کر منافقین خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم لوگوں نے ضعیفوں اور کمزوروں کے لئے قریب میں ہی ایک مسجد بنائی ہے اب ہماری تمنا ہے کہ حضور وہاں چل کر اس میں نماز پڑھ دیں تو وہ مسجد عنداللہ مقبول ہوجائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تو میں ایک بہت ہی اہم جہاد کے لئے مدینہ سے باہر جا رہا ہوں، واپسی پر دیکھا جائے گا۔
مگر جب آپ بخیریت اور فتح و کامرانی کے ساتھ مدینہ واپس تشریف لائے تو وحی الٰہی کے ذریعہ اس مسجد کی تعمیر کا حقیقی سبب آپ کو معلوم ہوچکا تھا اور منافقین کی خفیہ اور خطرناک سازش بے نقاب ہوچکی تھی۔ چنانچہ آپ نے مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلے یہ کام کیاکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت کو یہ حکم دے کر وہاں بھیجا کہ وہ وہاں جائیں اور اس مسجد کو آگ لگا کر خاک سیاہ کردیں۔
چونکہ اس مسجد کی بنیاد حقیقتاً تقویٰ اور للہیت کی جگہ تفریق بین المسلمین اور تخریب اسلام پر رکھی گئی تھی اس لئے بلاشبہ وہ اس کی مستحق تھی کہ اس کو جلا کر برباد کردیا جائے اور درحقیقت اس تخریب کاری کے اڈہ کو مسجد کہنا حقیقت کے خلاف تھا اس لئے قرآن مجید نے اس حقیقتِ حال کو ظاہر کرتے ہوئے اعلان فرما دیا کہ یہ مسجدِ تقویٰ نہیں بلکہ ''مسجد ضرار''کہلانے کی مستحق ہے