Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
304 - 414
رکھے تھے یہ منظر دیکھ کر کفار آپس میں کہنے لگے کہ اگر اس غار میں کوئی انسان موجود ہوتا تو نہ مکڑی جالا تنتی، نہ کبوتری یہاں انڈے دیتی۔ کفار کی آہٹ پا کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ گھبرا گئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اب ہمارے دشمن اس قدر قریب آگئے ہیں کہ اگر وہ اپنے قدموں پر نظر ڈالیں گے تو ہم کو دیکھ لیں گے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا
     مت گھبراؤ، خدا ہمارے ساتھ ہے۔( پ10،التوبہ:40 )

پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سکینہ اتر پڑا کہ وہ بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو گئے اور چوتھے دن یکم ربیع الاول دو شنبہ کے روز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام غار سے باہر تشریف لائے اور مدینہ منورہ کو روانہ ہو گئے۔ اس غار ِ ثور کے واقعہ کو قرآن مجید نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے:۔
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی ؕ وَکَلِمَۃُ اللہِ ہِیَ الْعُلْیَا ؕ وَاللہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿40﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ اتارا اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں اور کافروں کی بات نیچے ڈالی اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔(پ10،التوبہ:40)

درسِ ہدایت:۔ یہ آیت اور غارِ ثور کا واقعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
Flag Counter