Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
303 - 414
سوا اور کسی جگہ سکونت پذیر نہ ہوتا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے ہی قرار داد ہوچکی تھی، وہ بھی اسی جگہ آگئے اور اس خیال سے کہ کفار ہمارے قدموں کے نشان سے ہمارا راستہ پہچان کر ہمارا پیچھا نہ کریں پھر یہ بھی دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے نازک زخمی ہو گئے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو اپنے کندھوں پر سوار کرلیا اور اس طرح خار دار جھاڑیوں اور نوک دار پتھروں والی پہاڑیوں کو روندتے ہوئے اسی رات غارِ ثور پہنچے۔
  (مدارج النبوۃ، بحث ''غارِ ثور'' ج۲، ص ۵۸)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے خود غار میں داخل ہوئے اور اچھی طرح غار کی صفائی کی اور اپنے کپڑوں کو پھاڑ پھاڑ کر غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سوراخ کو اپنی ایڑی سے بند کررکھا تھا سوراخ کے اندر سے ایک سانپ نے بار بار یارِ غار کے پاؤں میں کاٹا۔ مگر جاں نثار نے اس خیال سے پاؤں نہیں ہٹایا کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب ِ راحت میں خلل نہ پڑجائے۔ مگر درد کی شدت سے یارِ غار کے آنسوؤں کی دھار کے چند قطرات سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر نثار ہو گئے۔ جس سے رحمتِ عالم بیدار ہو گئے اور اپنے یارِ غار کو روتا دیکھ کر بے قرار ہو گئے۔ پوچھا ابوبکر کیا ہوا؟ عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم پر اپنا لعاب ِ دہن لگا دیا، جس سے فوراً ہی سارا درد جاتا رہا اور زخم بھی اچھا ہو گیا۔ تین رات حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اس غار میں رونق افروز رہے۔ کفار مکہ نے آپ کی تلاش میں مکّہ کا چپہ چپہ چھان مارا۔ یہاں تک کہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے غار ثور تک پہنچ گئے مگر غار کے منہ پر حفاظتِ خداوندی کا پہرہ لگا ہوا تھا۔ یعنی غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا تھا اور کنارے پر کبوتری نے انڈے دے
Flag Counter