Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
302 - 414
نصرت کا حال خداوند ذوالجلال نے قرآن کریم میں ان الفاظ سے ذکر فرمایا ہے کہ:
لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّیَوْمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنۡکُمْ شَیْـًٔا وَّضَاقَتْ عَلَیۡکُمُ الۡاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدْبِرِیۡنَ ﴿ۚ25﴾ثُمَّ اَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمْ تَرَوْہَا ۚ وَعَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿26﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔بے شک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اِترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اتنی وسیع ہو کر تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ دے کر پھر گئے پھر اللہ نے اپنی تسکین اتاری اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے اور کافروں کو عذاب دیا اور منکروں کی یہی سزا ہے۔ (پ10،التوبہ:26.25)

جنگ حنین کا یہ واقعہ دلیل ہے کہ مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں فتح و کامرانی فوجوں کی کثرت اور سامانِ جنگ کی فراوانی سے نہیں ملتی۔ بلکہ فتح و نصرت کا دارومدار درحقیقت پروردگار کے فضل عظیم پر ہے۔ اگر وہ رب کریم اپنا فضل عظیم فرما دے تو چھوٹے سے چھوٹا لشکر بڑی سے بڑی فوج پر غالب ہو کر مظفر و منصور ہو سکتا ہے اور اگر اس کا فضل و کرم شامل حال نہ ہو تو بڑے سے بڑا لشکر چھوٹی سے چھوٹی فوج سے مغلوب ہو کر شکست کھا جاتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو لازم ہے کہ کبھی بھی اپنے لشکر کی کثرت پر اعتماد نہ رکھیں بلکہ ہمیشہ خداوند قدوس کے فضل و کرم پر بھروسہ رکھیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
 		     (۲۱)غارِ ثور
ہجرت کی رات حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دولت خانہ سے نکل کر مقام ''حزورہ''کے پاس کھڑے ہو گئے اور بڑی حسرت کے ساتھ ''کعبہ مکرمہ''کو دیکھااور فرمایا کہ اے شہر مکہ! تو مجھ کو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے
Flag Counter