Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
301 - 414
لوگوں کی زبان سے بغیر ''ان شاء اللہ''کہے یہ لفظ نکل گیا کہ آج ہماری قوت کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ مسلمانوں کا اپنی فوج کی عددی اکثریت اور عسکری طاقت پر بھروسہ کر کے فخر کرنا خداوند تعالیٰ کو پسند نہیں آیا لہٰذا مسلمانوں پر خدا کی طرف سے یہ تازیانہ عبرت لگا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو اچانک دشمن کی ان ٹولیوں نے جو گوریلا جنگ کے لئے پہاڑوں کی مختلف گھاٹیوں میں گھات لگائے بیٹھی تھی اس زور و شور کے ساتھ تیر اندازی شروع کردی کہ مسلمان تیروں کی بارش سے بدحواس ہو گئے اور اس ناگہانی تیر بارانی کی بوچھاڑ سے ان کی صفیں درہم برہم ہو گئیں اور تھوڑی ہی دیر میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور چند مہاجرین و انصار کے سوا تمام لشکر میدانِ جنگ سے فرار ہو گیا۔

اس خطرناک صورتِ حال اور نازک گھڑی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار برابر آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے اور رجز کا یہ شعر بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔
        انا النبی لا کذب 			انا ابن عبدالمطلب
یعنی میں نبی ہوں یہ کوئی جھوٹی بات نہیں، میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں۔

بالآخر حضور کے حکم پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بآواز بلند بھاگے ہوئے مسلمانوں کو پکارا اور یا معشر الانصار یا اصحاب بیعۃ الرضوان کہہ کر للکارا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ للکار اور پکار سن کر تمام جاں نثار مسلمان پلٹ پڑے اور پرچم نبوت کے نیچے جمع ہو کر ایسی جاں نثاری کے ساتھ داد شجاعت دینے لگے کہ دم زدن میں میدانِ جنگ کا نقشہ ہی پلٹ گیا اور یہ نتیجہ نکلا کہ شکست کے بعد مسلمان فتح مند ہو گئے اور پرچم اسلام سربلند ہوگیا، ہزاروں کفار گرفتار ہو گئے اور بہت سے تلوار کا لقمہ بن گئے اور بے شمار مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور کفارِ عرب کی طاقت و شوکت کا جنازہ نکل گیا۔

جنگ حنین میں مسلمانوں کے اپنی کثرت تعداد پر غرور کے انجام میں شکست اور پھر فتح و
Flag Counter