لوگوں کی زبان سے بغیر ''ان شاء اللہ''کہے یہ لفظ نکل گیا کہ آج ہماری قوت کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ مسلمانوں کا اپنی فوج کی عددی اکثریت اور عسکری طاقت پر بھروسہ کر کے فخر کرنا خداوند تعالیٰ کو پسند نہیں آیا لہٰذا مسلمانوں پر خدا کی طرف سے یہ تازیانہ عبرت لگا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو اچانک دشمن کی ان ٹولیوں نے جو گوریلا جنگ کے لئے پہاڑوں کی مختلف گھاٹیوں میں گھات لگائے بیٹھی تھی اس زور و شور کے ساتھ تیر اندازی شروع کردی کہ مسلمان تیروں کی بارش سے بدحواس ہو گئے اور اس ناگہانی تیر بارانی کی بوچھاڑ سے ان کی صفیں درہم برہم ہو گئیں اور تھوڑی ہی دیر میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور چند مہاجرین و انصار کے سوا تمام لشکر میدانِ جنگ سے فرار ہو گیا۔
اس خطرناک صورتِ حال اور نازک گھڑی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار برابر آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے اور رجز کا یہ شعر بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔