Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
298 - 414
شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرما دے اور تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے۔ (پ9،الانفال:11)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بدر میں اس ناگہانی بارش کے چار فائدے بیان فرمائے ہیں:

(۱)تاکہ جو بے وضو اور بے غسل ہوں وہ وضو اور غسل کر کے پاک و صاف اور ستھرے ہو جائیں۔

(۲)مسلمانوں کے دلوں سے شیطانی وسوسہ دور ہوجائے۔

(۳)مسلمانوں کے دلوں کو ڈھارس مل جائے کہ ہم حق پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد فرمائے گا۔ 

(۴)محاذ جنگ کی ریتیلی زمین اس قابل ہوجائے کہ اس پر قدم جم سکیں الغرض جنگ بدر کی یہ بارش مسلمانوں کے لئے بارانِ رحمت اور کفار کے لئے سامانِ زحمت بن گئی۔

درسِ ہدایت:۔جنگ بدر میں مسلمانوں کو جن مشکل حالات کا سامنا تھا ظاہر ہے کہ عقل انسانی عالم اسباب پر نظر کرتے ہوئے اس کے سوا اور کیا فیصلہ کرسکتی تھی کہ وہ اس جنگ کو ٹال دیں۔ مگر صادق الایمان مسلمانوں نے اپنے رسول کی مرضی پا کر ہر قسم کی بے سروسامانی کے باوجود حق و باطل کی معرکہ آرائی کے لئے والہانہ اور فداکارانہ جذبات کے ساتھ خود کو پیش کردیا اور نہایت ثابت قدمی اور اُولو العزمی کے ساتھ میدانِ جنگ میں کود پڑے تو اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں کی کس کس طرح امداد و نصرت فرمائی ،اس پر ایک نظر ڈال کر خداوند ِ قدوس کے فضل عظیم کی جلوہ سامانیوں کا نظارہ کیجئے اور یہ دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جنگ میں کس کس طرح مسلمانوں کی مدد فرمائی۔

(۱)مسلمانوں کی نگاہ میں دشمنوں کی تعداد اصل تعداد سے کم نظر آئی تاکہ مسلمان مرعوب نہ ہوں اور مشرکین کی نظروں میں مسلمان مٹھی بھر نظر آئیں تاکہ وہ جنگ سے جی نہ چرائیں اور حق