و باطل کی جنگ ٹل نہ جائے۔(انفال)
(۲)اور ایک وقت میں مسلمان مشرکین کی نظر میں دگنے نظر آئے تاکہ مشرکین مسلمانوں سے شکست کھا جائیں۔ (آلِ عمران)
(۳)پہلے مسلمانوں کی مدد کے لئے ایک ہزار فرشتے بھیجے گئے۔ پھر فرشتوں کی تعداد بڑھا کر تین ہزار کردی گئی۔ پھر فرشتوں کی تعداد پانچ ہزار ہو گئی۔ (آلِ عمران)
(۴)مسلمانوں پر عین معرکہ کے وقت تھوڑی دیر کے لئے غنودگی اور نیند طاری کر دی گئی جس کے چند منٹ بعد ان کی بیداری نے ان میں ایک نئی تازگی اور نئی روح پیدا کردی۔ (انفال)
(۵)آسمان سے پانی برسا کر مسلمانوں کے لئے ریتیلی زمین کو پختہ زمین کی طرح بنا دیا اور مشرکین کے محاذ ِ جنگ کی زمین کو کیچڑ اور پھسلن والی دلدل بنا دیا۔ (انفال)
(۶)نتیجہ جنگ یہ ہوا کہ ذرا دیر میں مشرکین کے بڑے بڑے نامی گرامی پہلوان اور جنگجو شہسوار مارے گئے۔ چنانچہ ستر مشرکین قتل ہوئے اور ستر گرفتار ہو کر قیدی بنائے گئے اور مشرکین کا لشکر اپنا سارا سامان چھوڑ کر میدانِ جنگ سے بھاگ نکلا اور یہ سارا سامان مسلمانوں کو مالِ غنیمت میں مل گیا۔
مسلمان اگرچہ خداوند ِ قدوس کی مذکورہ بالا امداد اور اس کے فضل سے فتح یاب ہوئے،تاہم اس جنگ میں چودہ مجاہدین ِ اسلام نے بھی جام ِ شہادت نوش کیا۔