سامنے تھے مگر مسلمانوں کا محاذ جنگ اس قدر ریتیلا تھا کہ انسانوں اور گھوڑوں دونوں کے قدم ریت میں دھنسے جا رہے تھے اور وہاں چلنا پھرنا دشوار تھا اور مشرکین کا محاذ جنگ بالکل ہموار اور پختہ فرش کی طرح تھا۔ غرض دشمن تعداد میں تین گنے سے زیادہ، سامان جنگ سے پوری طرح مکمل ،رسل و رسائل میں ہر طرح مطمئن تھے۔ پھر مزید برآں ان کا محاذ جنگ بھی اپنے محل وقوع کے لحاظ سے نہایت عمدہ تھا۔ ان سہولتوں کے علاوہ پانی کے سب کنوئیں بھی دشمنوں ہی کے قبضے میں تھے۔ اس لئے مسلمانوں کو پانی کی بے حد تکلیف تھی، خود پینے کے لئے کہاں سے پانی لائیں؟ جانوروں کو کیسے سیراب کریں؟ وضو اور غسل کی کیا صورت ہو؟ غرض صحابہ کرام انتہائی فکر مند اور پریشان تھے۔ اس موقع پر شیطان نے مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈال دیا کہ اے مسلمانو!تم گمان کرتے ہو کہ تم حق پر ہو اور تم میں اللہ عزوجل کا رسول بھی موجود ہے اور تم اللہ والے ہو اور حال یہ ہے کہ مشرکین پانی پر قابض ہیں اور تم بغیر وضوو غسل کے نمازیں پڑھتے ہو اور تم اور تمہارے جانور پیاس سے بے تاب ہو رہے ہیں۔
اس موقع پر ناگہاں نصرتِ آسمانی نے اس طرح جلوہ سامانی فرمائی کہ زور دار بارش ہوگئی جس نے مسلمانوں کے لئے ریتیلی زمین کو جما کر پختہ فرش کی طرح ہموار بنا دیا اور نشیب کی وجہ سے حوض نما گڑھوں میں پانی کا ذخیرہ مہیا کردیا اور دشمنوں کی زمین کو کیچڑ والی دلدل بنا دیا جس پر کافروں کا چلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور مسلمان ان پانی کے ذخیروں کی وجہ سے کنوؤں سے بے نیاز ہو گئے اور مسلمانوں کے دلوں سے شیطانی وسوسہ دور ہو گیا اور لوگ مطمئن ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اس عجیب و غریب بارش کی منظر کشی ان الفاظ میں فرمائی ہے کہ: