حضرت الیاس علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ اگرچہ قرآن مجید میں بہت ہی مختصر مذکور ہے تاہم اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ یہودیوں کی ذہنیت اس قدر مسخ ہو گئی تھی کہ کوئی ایسی برائی نہیں تھی جس کے کرنے پر یہ لوگ حریص نہ ہوں باوجودیکہ ان میں ہدایت کے لئے مسلسل انبیاء کرام تشریف لاتے رہے مگر پھر بھی بت پرستی، کواکب پرستی اور غیر اللہ کی عبادت ان لوگوں سے نہ چھوٹ سکی۔ پھر یہ لوگ اعلیٰ درجے کے جھوٹے، بدعہد اور رشوت خور بھی رہے اور اللہ تعالیٰ کے مقدس نبیوں کو ایذائیں دینا اور ان کو قتل کردینا ان ظالموں کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ بہرحال ان ظالموں کے واقعات سے جہاں ان لوگوں کی بدبختی و کجروی اور مجرمانہ شقاوت پر روشنی پڑتی ہے، وہیں ہم لوگوں کو یہ نصیحت و عبرت بھی حاصل ہوتی ہے کہ اب جب کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تو ہمارے لئے بے حد ضروری ہے کہ خدا کے آخری پیغام یعنی اسلام پر مضبوطی سے قائم رہ کر یہودیوں کے ظالمانہ طریقوں کی مخالفت کریں اور کفار کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر کر کے خدا کے مقدس نبیوں کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں۔