Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
296 - 414
حضرت الیاس علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ اگرچہ قرآن مجید میں بہت ہی مختصر مذکور ہے تاہم اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ یہودیوں کی ذہنیت اس قدر مسخ ہو گئی تھی کہ کوئی ایسی برائی نہیں تھی جس کے کرنے پر یہ لوگ حریص نہ ہوں باوجودیکہ ان میں ہدایت کے لئے مسلسل انبیاء کرام تشریف لاتے رہے مگر پھر بھی بت پرستی، کواکب پرستی اور غیر اللہ کی عبادت ان لوگوں سے نہ چھوٹ سکی۔ پھر یہ لوگ اعلیٰ درجے کے جھوٹے، بدعہد اور رشوت خور بھی رہے اور اللہ تعالیٰ کے مقدس نبیوں کو ایذائیں دینا اور ان کو قتل کردینا ان ظالموں کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ بہرحال ان ظالموں کے واقعات سے جہاں ان لوگوں کی بدبختی و کجروی اور مجرمانہ شقاوت پر روشنی پڑتی ہے، وہیں ہم لوگوں کو یہ نصیحت و عبرت بھی حاصل ہوتی ہے کہ اب جب کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تو ہمارے لئے بے حد ضروری ہے کہ خدا کے آخری پیغام یعنی اسلام پر مضبوطی سے قائم رہ کر یہودیوں کے ظالمانہ طریقوں کی مخالفت کریں اور کفار کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر کر کے خدا کے مقدس نبیوں کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
  			(۱۹)جنگ بدر کی بارش
جنگ بدر کا مفصل حال تو ہم اپنی کتاب ''سیرۃ المصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم'' میں مکمل لکھ چکے ہیں یہاں جنگ ِ بدر میں نصرتِ الٰہی نے بارش کی صورت میں جو تجلی فرمائی جس سے میدانِ جنگ کا نقشہ بھی بدل گیا، اس کا ہم ایک جلوہ دکھا رہے ہیں۔

واقعہ یہ ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین سو تیرہ صحابہ کرام کی جماعت کو ہمراہ لے کر مقام بدر میں تشریف لے گئے اور بدر کے قریب پہنچ کر مدینہ کی جانب والے رُخ ''عدوۃ الدنیا'' پر خیمہ زن ہو گئے اور مشرکین آگے بڑھے تو بدر پہنچ کر مدینہ سے دور مکہ کی جانب والے ''عدوۃ القصویٰ'' پر اُترے اور محاذ جنگ کا نقشہ اس طرح بنا کہ مشرکین اور مسلمان بالکل آمنے
Flag Counter