کو بت پرستی اور شرک کا حکم سنایا کرتا تھا۔ اس ماحول میں حضرت الیاس علیہ السلام ان لوگوں کو توحید اور خدا پرستی کی دعوت دینے لگے مگر قوم ان پر ایمان نہیں لائی۔ بلکہ شہر کا بادشاہ ''ارجب'' ان کا دشمن جاں بن گیا اور اس نے حضرت الیاس علیہ السلام کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا۔ چنانچہ آپ شہر سے ہجرت فرما کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور غاروں میں روپوش ہو گئے اور پورے سات برس تک خوف و ہراس کے عالم میں رہے اور جنگلی گھاسوں اور جنگل کے پھولوں اور پھلوں پر زندگی بسر فرماتے رہے۔ بادشاہ نے آپ کی گرفتاری کے لئے بہت سے جاسوس مقرر کردیئے تھے۔ آپ نے مشکلات سے تنگ آکر یہ دعا مانگی کہ الٰہی! مجھے ان ظالموں سے نجات اور راحت عطا فرما تو آپ پر وحی آئی کہ تم فلاں دن فلاں جگہ پر جاؤ اور وہاں جو سواری ملے بلاخوف اس پر سوار ہو جاؤ۔ چنانچہ اس دن اس مقام پر آپ پہنچے تو ایک سرخ رنگ کا گھوڑا کھڑا تھا۔ آپ اس پر سوار ہو گئے اور گھوڑا چل پڑا تو آپ کے چچا زاد بھائی حضرت ''الیسع'' علیہ السلام نے آپ کو پکارا اور عرض کیا کہ اب میں کیا کروں؟ تو آپ نے اپنا کمبل ان پر ڈال دیا۔ یہ نشانی تھی کہ میں نے تم کو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے اپنا خلیفہ بنا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل فرما دیا اور آپ کو کھانے اور پینے سے بے نیاز کردیا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی جماعت میں شامل فرمالیا اور حضرت الیسع علیہ السلام نہایت عزم و ہمت کے ساتھ لوگوں کی ہدایت کرنے لگے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہر دم ہر قدم پر ان کی مدد فرمائی اور بنی اسرائیل آپ پر ایمان لائے اور آپ کی وفات تک ایمان پر قائم رہے۔
حضرت الیاس کے معجزات:۔ اللہ تعالیٰ نے تمام پہاڑوں اور حیوانات کو آپ کے لئے مسخر فرما دیا اور آپ کو ستر انبیاء کی طاقت بخش دی۔ غضب و جلال اور قوت و طاقت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہم پلہ بنا دیا۔ اور روایات میں آیا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر علیہما السلام ہر سال کے روزے بیت المقدس میں ادا کرتے ہیں اور ہر سال حج کے لئے مکہ