| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
الغرض جنگ اُحد میں منافقوں کی یہ خطرناک سازش اور خوفناک تدبیر بالکل ناکام ہو کر رہ گئی اور بحمداللہ عزوجل اگرچہ ستر مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا لیکن آخر میں فتح مبین نے پیغمبر کے قدم نبوت کا بوسہ لیا اور مشرکین ناکام ہو کر میدانِ جنگ چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے گئے اور پرچم اسلام بلند ہی رہا۔ درسِ ہدایت:۔ اس واقعہ سے سبق ملتا ہے کہ اگر مومنین ا خلاصِ نیت کے سا تھ متحد ہوکرمیدانِ جنگ میں کافروں کے ساتھ جواں مردی اور اُولو العزمی کے ساتھ جہاد میں ڈٹے رہیں تو منافقوں اور کافروں کی ہر سازش و تدبیر کو خداوند قدوس ناکام بنا دیتا ہے مگر یہ حقیقت بڑی ہی صداقت مآب ہے کہ
برائے فتح پہلی شرط ہے ثابت قدم رہنا جماعت کو بہم رکھنا، جماعت کا بہم رہنا
(۱۸)حضرت الیاس علیہ السلام
یہ حضرت حزقیل علیہ السلام کے خلیفہ اور جانشین ہیں۔ بیشتر مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور ان کا نسب نامہ یہ ہے۔ الیاس بن یاسین بن فخاس بن عیزار بن ہارون علیہ السلام۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی بعثت کے متعلق مفسرین و مؤرخین کا اتفاق ہے کہ وہ شام کے باشندوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے اور ''بعلبک'' کا مشہور شہر ان کی رسالت و ہدایت کا مرکز تھا۔ ان دنوں ''بعلبک'' شہر پر ''ارجب'' نامی بادشاہ کی حکومت تھی جو ساری قوم کو بت پرستی پر مجبور کئے ہوئے تھا اور ان لوگوں کا سب سے بڑا بت ''بعل'' تھا جو سونے کا بنا ہوا تھا اور بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار چہرے بنے ہوئے تھے اور چار سو خدام اس بت کی خدمت کرتے تھے جن کو ساری قوم بیٹوں کی طرح مانتی تھی اور اس بت میں سے شیطان کی آواز آتی تھی جو لوگوں