مکرمہ جایا کرتے ہیں اور سال کے باقی دنوں میں حضرت الیاس علیہ السلام تو جنگلوں اور میدانوں میں گشت فرماتے رہتے ہیں اور حضرت خضر علیہ السلام دریاؤں اور سمندروں کی سیر فرماتے رہتے ہیں اور یہ دونوں حضرات آخری زمانے میں وفات پائیں گے جب کہ قرآن مجید اٹھا لیا جائے گا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے کہ ہم لوگ ایک جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو راستہ میں ایک آواز آئی کہ یا اللہ! تو مجھ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بناد ے جو امت مرحومہ اور مستجاب الدعوات ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اے انس! تم اس آواز کا پتا لگاؤ تو میں پہاڑ میں داخل ہوا، تو اچانک یہ نظر آیا کہ ایک آدمی نہایت سفید کپڑوں میں ملبوس لمبی داڑھی والا نظر آیا جب اس نے مجھے دیکھا تو پوچھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو؟ تو میں نے عرض کیا کہ جی ہاں تو انہوں نے فرمایا کہ تم جا کر حضور سے میرا سلام عرض کرو اور یہ کہہ دو کہ آپ کے بھائی الیاس (علیہ السلام)آپ سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ میں نے واپس آ کر حضور سے سارا معاملہ عرض کیا تو آپ مجھ کو ہمراہ لے کر روانہ ہوئے اور جب آپ ان کے قریب پہنچ گئے تو میں پیچھے ہٹ گیا۔ پھر دونوں صاحبان دیر تک گفتگو فرماتے رہے اور آسمان سے ایک دستر خوان اتر پڑا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے بلا بھیجا اور میں نے دونوں حضرات کے ساتھ میں کھانا کھایا۔ جب ہم لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے تو آسمان سے ایک بدلی آئی اور وہ حضرت الیاس علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان کی طرف لے گئی اور میں ان کے سفید کپڑوں کو دیکھتا رہ گیا۔