تھے۔ منافقین پہلے ہی کفار مکہ کے ساتھ یہ سازش کرچکے تھے کہ مخلص مسلمانوں کو بزدل بنانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کریں گے کہ شروع میں مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ نکلیں گے پھر مسلمانوں سے کٹ کر مدینہ واپس آجائیں گے۔ چنانچہ منافقوں کا سردار یہ بہانہ بنا کر لشکر اسلام سے کٹ کر جدا ہو گیا کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے ہم تجربہ کاروں کی بات نہیں مانی کہ مدینہ میں رہ کر مدافعانہ جنگ کرنی چاہے بلکہ الٹا نوجوانوں کی بات مان کر مدینہ سے نکل پڑے تو ہم کو کیا ضرورت ہے کہ ہم اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالیں۔ مگر الحمدللہ عزوجل!کہ منافقوں کا مقصد پورا نہیں ہوا کیونکہ مخلص مسلمانوں پر ان لوگوں کے لشکر اسلام سے جدا ہوجانے کا مطلق کوئی اثر نہیں پڑا۔ البتہ مسلمانوں کے دو قبیلے ''بنوسلمہ''و ''بنو حارثہ''میں کچھ تھوڑی سی بددلی اور بزدلی پیدا ہوچکی تھی مگر مخلص مسلمانوں کے جوش جہاد کو دیکھ کر ان دونوں قبیلوں کی بھی ہمت بلند ہو گئی اور یہ لوگ بھی ثابت قدم رہ کر پورے جاں نثارانہ جذبات سرفروشی کے ساتھ مشرکین کے دل بادل لشکروں سے ٹکرا گئے اور آخری دم تک پرچم نبوت کے زیرِ سایہ مشرکوں سے جنگ کرتے رہے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ