بہرحال ظالم یہودیوں نے اپنی شقاوت سے خدا کے نبیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کیا اور جس بے دردی کے ساتھ ان مقدس نفوس کا خون بہایا اقوام عالم میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ اس لئے خداوند قہار و جبار نے اپنے قہر و غضب سے ان ظالموں کو دونوں جہان میں ملعون کردیا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان ملعونوں سے ہمیشہ نفرت و دشمنی رکھے۔
(۲)بنی اسرائیل چونکہ مختلف قبائل میں تقسیم تھے اس لئے ان کے درمیان ایک ہی وقت میں متعدد نبی اور پیغمبر مبعوث ہوتے رہے اور ان سب نبیوں کی تعلیمات کی بنیاد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب توریت ہی رہی اور ان سب انبیاء کرام علیہم السلام کی حیثیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نائبین کی رہی۔
(۳)علماء کرام کو اپنی زندگی کی آخری سانس تک حق پر ڈٹ کر اُس کی تبلیغ کرتے رہنا چاہے اور حق کے معاملہ میں اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرنی چاہے۔ جیسا کہ آپ نے پڑھ لیا کہ سرکٹ جانے کے بعد بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام کے کٹے ہوئے سر سے یہی آواز آتی رہی کہ تین طلاقوں کے بعد بغیر حلالہ کرائے ہوئے عورت سے اس کا شوہر دوبارہ نکاح نہیں کرسکتا۔