Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
290 - 414
بہرحال ظالم یہودیوں نے اپنی شقاوت سے خدا کے نبیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کیا اور جس بے دردی کے ساتھ ان مقدس نفوس کا خون بہایا اقوام عالم میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ اس لئے خداوند قہار و جبار نے اپنے قہر و غضب سے ان ظالموں کو دونوں جہان میں ملعون کردیا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان ملعونوں سے ہمیشہ نفرت و دشمنی رکھے۔

(۲)بنی اسرائیل چونکہ مختلف قبائل میں تقسیم تھے اس لئے ان کے درمیان ایک ہی وقت میں متعدد نبی اور پیغمبر مبعوث ہوتے رہے اور ان سب نبیوں کی تعلیمات کی بنیاد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب توریت ہی رہی اور ان سب انبیاء کرام علیہم السلام کی حیثیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نائبین کی رہی۔

(۳)علماء کرام کو اپنی زندگی کی آخری سانس تک حق پر ڈٹ کر اُس کی تبلیغ کرتے رہنا چاہے اور حق کے معاملہ میں اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرنی چاہے۔ جیسا کہ آپ نے پڑھ لیا کہ سرکٹ جانے کے بعد بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام کے کٹے ہوئے سر سے یہی آواز آتی رہی کہ تین طلاقوں کے بعد بغیر حلالہ کرائے ہوئے عورت سے اس کا شوہر دوبارہ نکاح نہیں کرسکتا۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
                    (۱۷)منافقوں کی ایک سازش
    جنگ اُحد کا مکمل اور مفصل بیان تو ہم اپنی کتاب ''سیرۃ المصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم'' میں تحریر کرچکے ہیں مگر ہم یہاں تو صرف منافقوں کی ایک خطرناک سازش کا ذکر کررہے ہیں جو جنگ اُحد کے دن ان بدبختوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کی تھی۔ جس پر قرآن مجید نے روشنی ڈالی ہے اور جو بہت ہی قابل عبرت اور نہایت ہی نصیحت آموز ہے اور وہ یہ ہے کہ:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے باہر جنگ کے لئے نکلے تو ایک ہزار کا لشکر پرچم نبوت کے نیچے تھا۔ اس لشکر میں تین سو منافقین بھی عبداللہ بن ابی کی سرکردگی میں ہم رکاب
Flag Counter