Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
289 - 414
یہ ہے کہ ''مسجد جبرون'' میں شہادت ہوئی۔ مگر حضرت سفیان ثوری نے شمر بن عطیہ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی اور قربان گاہ کے درمیان آپ شہید کئے گئے جس جگہ آپ سے پہلے ستر انبیاء علیہم السلام کو یہودی قتل کر چکے تھے۔
 (تاریخ ابن کثیر، ج ۲، ص ۵۵)
بہرحال یہ سب کومُسلّم ہے کہ یہودیوں نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کردیا اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی شہادت کا حال معلوم ہوا تو آپ نے علی الاعلان اپنی دعوتِ حق کا وعظ شروع کردیا اور بالآخر یہودیوں نے آپ کے قتل کا بھی منصوبہ بنا لیا۔ بلکہ قتل کے لئے آپ کے مکان میں ایک یہودی داخل بھی ہو گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بدلی بھیج کر آسمان پر اٹھا لیا جس کا مفصل واقعہ ہماری کتاب ''عجائب القرآن'' میں مذکور ہے۔

درسِ ہدایت:۔ حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علیہما السلام کی شہادت کے واقعات اور حالات سے اگرچہ حقیقت میں نگاہیں بہت سے نتائج حاصل کرسکتی ہیں۔ تاہم چند باتیں خصوصی طور پر قابل توجہ ہیں:

(۱)دنیا میں ان یہودیوں سے زیادہ شقی القلب اور بدبخت کوئی اور نہیں ہو سکتا جو حضرات انبیاء علیہم السلام کو ناحق قتل کرتے تھے۔ حالانکہ یہ برگزیدہ اور مقدس ہستیاں نہ کسی کو ستاتی تھیں نہ کسی کے مال و دولت پر ہاتھ ڈالتی تھیں بلکہ بغیر کسی اجرت و عوض کے لوگوں کی اصلاح کر کے انہیں فلاح و سعادت دارین کی عزتوں سے سرفراز کرتی تھیں۔ چنانچہ حضرت ابو عبیدہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن سب سے بڑے اور زیادہ عذاب کا مستحق کون ہو گا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ:
                 رَجُلٌ قَتَلَ نَبِیًّا اَوْمَنْ اَمَرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ۔
وہ شخص جو کسی نبی کویا ایسے شخص کو قتل کرے جو بھلائی کا حکم دیتا ہو اور برائی سے روکتا ہو۔
          			     (تفسیر ابن کثیر، ج۲، ص ۲۲، پ۳، آل عمران:۲۱)
Flag Counter