| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
حضرت یحییٰ و حضرت زکریا علیہما السلام کی شہادت بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت:۔ابن عساکر نے
''المستقصی فی فضائل الاقصیٰ''
میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ اس طرح تحریر فرمایا ہے کہ دمشق کے بادشاہ ''حداد بن حدار''نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ پھر وہ چاہتا تھا کہ بغیر حلالہ اس کو واپس کر کے اپنی بیوی بنالے۔ اس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام سے فتویٰ طلب کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ اب تم پر حرام ہوچکی ہے اس کی بیوی کو یہ بات سخت ناگوار گزری اور وہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہو گئی۔ چنانچہ اس نے بادشاہ کو مجبور کر کے قتل کی اجازت حاصل کرلی اور جب کہ وہ ''مسجد جبرون'' میں نماز پڑھ رہے تھے بحالت سجدہ ان کو قتل کرادیا اور ایک طشت میں ان کا سر مبارک اپنے سامنے منگوایا ۔ مگر کٹا ہوا سر اس حالت میں بھی یہی کہتا رہا کہ ''تو بغیر حلالہ کرائے بادشاہ کے لئے حلال نہیں''اور اسی حالت میں اس پر خدا کا یہ عذاب نازل ہوگیا وہ عورت ،سر مبارک کے ساتھ زمین میں دھنس گئی۔
(البدایہ والنہایہ،ج۲،ص۵۵)
حضرت زکریا علیہ السلام کا مقتل یہودیوں نے جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کردیا تو پھر ان کے والد ماجد حضرت زکریا علیہ السلام کی طرف یہ ظالم لوگ متوجہ ہوئے کہ ان کو بھی شہید کردیں۔ مگر جب حضرت زکریا علیہ السلام نے یہ دیکھا تو وہاں سے ہٹ گئے اور ایک درخت کے شگاف میں روپوش ہو گئے۔ یہودیوں نے اس درخت پر آرا چلا دیا۔ جب آرا حضرت زکریا علیہ السلام پر پہنچا تو خدا کی وحی آئی کہ خبردار اے زکریا ! اگر آپ نے کچھ بھی آہ و زاری کی تو ہم پوری روئے زمین کو تہ و بالا کردیں گے۔ اور اگر تم نے صبر کیا تو ہم بھی ان یہودیوں پر اپنا عذاب نازل کردیں گے۔ چنانچہ حضرت زکریا علیہ السلام نے صبر کیا اور ظالم یہودیوں نے درخت کے ساتھ ان کے بھی دو ٹکڑے کردیئے۔
(تاریخ ابن کثیر، ج ۲،۵۲)
اس میں اختلاف ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ کس جگہ پیش آیا؟ پہلا قول