Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
287 - 414
عداوتوں کا مظاہرہ کیا ہے، عیسائیوں نے ان لوگوں سے بہت کم مسلمانوں کے ساتھ بُر ا برتاؤ کیا ہے اور یہودیوں اور مشرکوں نے مسلمانوں پر جیسے جیسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں، عیسائیوں نے اس درجہ مسلمانوں پر مظالم نہیں کئے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہے کہ یہود و مشرکین کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کر کے کبھی بھی ان لوگوں پر اعتماد نہ کریں اور ہمیشہ ان بدترین دشمنوں سے ہوشیار رہیں اور عیسائیوں کے بارے میں بھی یہی عقیدہ رکھیں کہ یہ بھی مسلمانوں کے دشمن ہی ہیں مگر پھر بھی ان کے دلوں میں مسلمانوں کے لئے کچھ نرم گوشے بھی ہیں۔ اس لئے یہ یہودیوں اور مشرکوں کی بہ نسبت کم درجے کے دشمن ہیں۔ 

    یہی اس آیت مبارکہ کا خلاصہ ومطلب ہے جو مسلمانوں کے واسطے ان کے چھوٹے بڑے دشمنوں کی پہچان کے لئے بہترین شمع راہ بلکہ روشنی کا منارہ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
 			 (۱۶)انبیاء کے قاتل
قرآن مجید نے متعدد جگہ پر یہودیوں کی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں کا تفصیلی بیان کرتے ہوئے بار بار یہ اعلان فرمایا ہے کہ ان ظالموں نے اپنے انبیاء اور پیغمبروں کو بھی قتل کئے بغیر نہیں چھوڑا، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَیَقْتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّیَقْتُلُوۡنَ الَّذِیۡنَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿21﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو دردناک عذاب کی۔ (پ3،ال عمران:21)

    حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہودیوں نے ایک دن میں پینتالیس نبیوں اور ایک سو ستر صالحین کو قتل کردیا تھا جو ان کو اچھی باتوں کا حکم دیا کرتے تھے۔
 (تاریخ ابن کثیر، ج ۲، ص۵۵)
چنانچہ
Flag Counter