Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
281 - 414
موہوم امید کی بناء پر برابر اپنی اسلام دشمن اسکیموں میں لگے رہے اور طرح طرح کے فتنے بپا کرتے رہے۔

مگر ۱۰ ھ حجۃ الوداع کے موقع پر جب کافروں نے مسلمانوں کا عظیم مجمع میدانِ عرفات میں دیکھا اور ان ہزاروں مسلمانوں کے اسلامی جوش اور رسول کے ساتھ ان کے والہانہ جذبات عقیدت کا نظارہ دیکھ لیا تو کفار کے حوصلوں اور ان کی موہوم امیدوں پر اوس پڑ گئی اور وہ اسلام کی تباہی و بربادی سے بالکل ہی مایوس ہو گئے۔ چنانچہ اس واقعہ کی عکاسی کرتے ہوئے خاص میدانِ عرفات میں بعد عصر یہ آیات نازل ہوئیں۔
 (جمل ج ۱ ص ۴۶۴)
اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ ؕ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلَامَ دِیۡنًا ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس ٹوٹ گئی تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا۔ اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔(پ6،المائدۃ:3)

    روایت ہے کہ ایک یہودی نے امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے کہ اگر ہم یہودیوں پر ایسی آیت نازل ہوئی ہوتی تو ہم لوگ اس دن کو عید کا دن بنالیتے۔ تو آپ نے فرمایا کہ کون سی آیت؟ تو اس نے کہا کہ
'' اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ  ''
(پ6،المائدۃ:3) والی آیت۔ تو آپ نے فرمایا کہ جس دن اور جس جگہ اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ہم اس کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں وہ جمعہ کا دن تھا اور عرفات کا میدان تھا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام عصر کے بعد خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی۔

آپ کا مطلب یہ تھا کہ اس آیت کے نزول کے دن تو ہماری دو عیدیں تھیں۔ ایک تو عرفہ کا
Flag Counter