Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
282 - 414
دن یہ بھی ہماری عید کا دن ہے۔ دوسر اجمعہ کا دن یہ بھی ہماری عید ہی کا دن ہے اس لئے اب الگ سے ہم کو عید منانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔
             			(تفسیر جمل،ج۲، ص ۱۸۰، پ۶،المائدۃ: ۳)
یہ بھی روایت ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے۔ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ اے عمر! تم روتے کیوں ہو؟ تو آپ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارا دین روز بروز بڑھتا جا رہا ہے لیکن اب جب کہ یہ دین کامل ہو گیا ہے تو یہ قاعدہ ہے کہ ''ہر کمالے را زوالے'' کہ جو چیز اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے وہ گھٹنا شروع ہوجاتی ہے پھر اس آیت سے وفات نبوی کی طرف بھی اشارہ مل رہا ہے کیونکہ حضور(علیہ الصلوٰۃ والسلام )دین کو کامل کرنے ہی کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے تو جب دین کامل ہوچکا تو ظاہر ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم )اب اس دنیا میں رہنا پسند نہیں فرمائیں گے۔
        	     (تفسیر جمل علی الجلالین، ج۲، ص ۱۸۰،پ۶، المائدۃ: ۳)
درسِ ہدایت:۔ (۱)اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات پر مہر لگا دی کہ اب کافروں کی کوئی جدوجہد اور کوشش بھی اسلام کو ختم نہیں کرسکتی۔ کیونکہ کفار کی امیدو آس پر ناامیدی و یاس کے بادل چھا گئے ہیں۔ کیونکہ ان کا اسلام کو مٹا دینے کا خواب اب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔

(۲)اس آیت نے اعلان کردیا کہ دین اسلام مکمل ہوچکا ہے اب اگر کوئی یہ کہے کہ اسلام میں فلاں فلاں مسائل ناقص رہ گئے ہیں یا اسلام میں کچھ ترمیم اور اضافہ کی ضرورت ہے تو وہ شخص کذاب اور جھوٹا ہے اور درحقیقت وہ قرآن کی تکذیب کرنے والا ملحد اور اسلام سے خارج ہے۔ دین اسلام بلاشبہ یقینا کامل و مکمل ہوچکا ہے اس پر ایمان رکھنا ضروریات دین میں سے ہے۔
Flag Counter