Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
280 - 414
مرتدوں کے مقابلہ کے لئے ہر دور میں ایک ایسی جماعت کو پیدا فرما دے گا جو تمام مرتدین کی فتنہ پردازیوں کو ختم کر کے اسلام کا بول بالا کرتے رہے گی جن کی چھ نشانیاں ہوں گی۔

    ان آیات بینات سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جنہوں نے مرتدین کے گیارہ قبائل کی شورشوں کو ختم کر کے پرچم اسلام کو بلند سے بلند تر کردیا۔ یہ صحابہ کرام مندرجہ ذیل چھ عظیم صفات کے شرف سے سرفراز تھے۔ یعنی (۱)صحابہ کرام اللہ کے محبوب ہیں (۲)وہ کافروں کے حق میں بہت سخت ہیں (۳)وہ اللہ تعالیٰ کے محب ہیں(۴)وہ مسلمانوں کے لئے رحم دل ہیں (۵)وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہیں(۶)وہ اللہ تعالی کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کا اندیشہ و خوف نہیں رکھتے۔

پھر آیت کے آخر میں خداوند قدوس نے ان صحابہ کرام کے مراتب ودر جات کی عظمت و سربلندی پر اپنے فضل و انعام کی مہر ثبت فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ سب اللہ کا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بڑی وسعت والا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے فضل کا حق دار ہے۔

    اللہ اکبر!سبحان اللہ! کیا کہنا ہے صحابہ کرام کی عظمتوں کی بلندی کا۔ رسول نے صحابہ کرام کے فضل و کمال کا اعلان فرمایا اور خداوند قدوس نے ان لوگوں کے جامع الکمالات ہونے کا قرآن مجید میں خطبہ پڑھا۔
 (۱۳) کافروں کی مایوسی
ہجرت کے بعد گو برابر اسلام ترقی کرتا رہا اور ہر محاذ پر کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کو فتوحات بھی حاصل ہوتی رہیں اور کفار اپنی چالوں میں ناکام و نامراد بھی ہوتے رہے۔ مگر پھر بھی کفار برابر اسلام کی بیخ کنی میں مصروف ہی رہے اور یہ آس لگائے ہوئے تھے کہ کسی نہ کسی دن ضرور اسلام مٹ جائے گا اور پھر عرب میں بت پرستی کا چرچا ہو کر رہے گا۔ کفار اپنی اسی
Flag Counter