مرتدوں کے مقابلہ کے لئے ہر دور میں ایک ایسی جماعت کو پیدا فرما دے گا جو تمام مرتدین کی فتنہ پردازیوں کو ختم کر کے اسلام کا بول بالا کرتے رہے گی جن کی چھ نشانیاں ہوں گی۔
ان آیات بینات سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جنہوں نے مرتدین کے گیارہ قبائل کی شورشوں کو ختم کر کے پرچم اسلام کو بلند سے بلند تر کردیا۔ یہ صحابہ کرام مندرجہ ذیل چھ عظیم صفات کے شرف سے سرفراز تھے۔ یعنی (۱)صحابہ کرام اللہ کے محبوب ہیں (۲)وہ کافروں کے حق میں بہت سخت ہیں (۳)وہ اللہ تعالیٰ کے محب ہیں(۴)وہ مسلمانوں کے لئے رحم دل ہیں (۵)وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہیں(۶)وہ اللہ تعالی کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کا اندیشہ و خوف نہیں رکھتے۔
پھر آیت کے آخر میں خداوند قدوس نے ان صحابہ کرام کے مراتب ودر جات کی عظمت و سربلندی پر اپنے فضل و انعام کی مہر ثبت فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ سب اللہ کا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بڑی وسعت والا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے فضل کا حق دار ہے۔
اللہ اکبر!سبحان اللہ! کیا کہنا ہے صحابہ کرام کی عظمتوں کی بلندی کا۔ رسول نے صحابہ کرام کے فضل و کمال کا اعلان فرمایا اور خداوند قدوس نے ان لوگوں کے جامع الکمالات ہونے کا قرآن مجید میں خطبہ پڑھا۔